لاہور ہائی کورٹ: پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا حکم

جمعہ 3 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائی کورٹ نے جیل بھروتحریک میں گرفتاریاں دینے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو رہاکرنے کا حکم دے د یا۔

عدالت عالیہ کے جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے تحریک انصاف کے سینئر رہنما فواد چودھری کی درخواست پر سماعت کی اور شاہ محمود قریشی سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے۔

درخواست پر سماعت کے دوران فاضل جج نے فواد چودھری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں حراست میں غیرقانونی کیا ہے آپ نے توخود جیل بھروتحریک شروع کی تھی جس پر سکندر ذوالقرنین ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ یہ سب سیاسی قیدی ہیں اور رولز میں سیاسی قیدیوں کے بارے میں واضح بتایاگیاہے۔

سرکاری وکیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے جیل میں گئے اور ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ حراست میں رکھا گیا۔

جسٹس طارق سلیم نے سرکاری وکیل سے کہا کہ آپ ہدایات لے لیں اور عدالت کو آگاہ کریں اوربعدازاں نظربندی کے احکامات معطل کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں اورکارکنوں کی رہائی کے احکامات جاری کردیے گئے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جیل بھروتحریک کااعلان کیا تھا جس کے بعد 22 فروری کو تحریک کے پہلے روز پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اورسیکرٹری جنرل اسد عمر سمیت دیگرقیادت اور کارکنوں نے گرفتاریاں دی تھیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں رہائی کے لیے درخواست دائر کردی گئی تھی اوردوسری جانب عمران خان نے جیل بھروتحریک معطل کرنے کا بھی اعلان کردیا تھا اور آج عدالت نے بھی نظربند رہنماؤں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینئررہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان اتوار کو جیل بھروتحریک کے اسیران کے اعزاز میں عصرانہ دیں گے کیوں کہ یہ لیڈرز اورکارکنان تحریک انصاف کا فخر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘