امریکی شہری نے مارخور شکار کرکے ریکارڈ قائم کردیا، پرمٹ کی قیمت ساڑھے 6 کروڑ روپے تھی

اتوار 17 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں امریکی شہری جیمز مل مین نے سیزن کا پہلا مارخور شکار کرلیا۔ اس شکار کے لیے انہوں نے 2 لاکھ 32 ہزار امریکی ڈالر (ساڑھے چھ کروڑ روپے) کا پرمٹ حاصل کیا تھا جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے مہنگا پرمٹ ہے۔

محکمہ جنگلی حیات چترال کے ڈی ایف او فاروق نبی کے مطابق شکار کیے گئے مارخور کی عمر 9 سال 6 ماہ ہے۔ شکاری جیمز مل مین نے مارخور کو تھوشی شاشا کمیونٹی گیم ریزرو میں شکار کیا۔ نر مارخور کے سینگوں کا سائز 45 انچ تھا۔

امریکی شکاری جیمز مل مین نے اس شکار کے لیے پرمٹ اکتوبر 2023 میں ہونے والی بولی میں حاصل کیا تھا۔ اجازت نامے کی مالیت 2 لاکھ 32 ہزار امریکی ڈالر (ساڑھے چھ کروڑ روپے) تھی۔ تاہم ٹیکس شامل کیے جانے کے بعد 2 لاکھ 32 ہزار امریکی ڈالر ہو گئی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کی شروعات 1999 سے ہوئی تھی۔ ابتدا میں سالانہ 6 ٹرافیوں کی اجازت دی گئی تھی لیکن بعد میں 12 کر دی گئی تھی۔ یوں چترال میں 1999 میں شمار کیے گئے سینکڑوں مارخوروں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں