لیول پلیئنگ فیلڈ ہماری سیاست میں در آیا ایک نیا استعارہ ہے۔ اس کے معنی روز بہ روز مبہم ہو رہے ہیں۔ ابتدا میں لیول پلیئنگ فیلڈ کا شکوہ کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے سنا گیا۔ پھر کچھ ایسی جماعتیں بھی اسی نعرے کے ساتھ منظر عام پر آئیں جن کا نصب العین ہی فساد، شر اور انتشار رہا۔ بہت ضروری ہے کہ ہم اس سیاسی اصطلاح کے درست معنی تلاش کرلیں ورنہ کہیں یہ بھی سونامی کی طرح کا نعرہ نہ بن جائے۔ سونامی تباہی کا دوسرا نام ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے اپنے ہاں اسے انقلاب کے معنی میں پیش کیا گیا ہے۔
سیاسی طور پر تو اس کے معنی یہی ہوں گے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں شرکت کی اجازت ہو۔ ان کو مساوی مواقع دستیاب ہوں۔ ان کوانتخابی مہم چلانے کی آزادی ہو۔ ان کے جلسے، جلسوں پر کوئی قدغن نہ لگائی جائے۔ ان کے سیاسی منشور کی تشہیر کو کسی غیر جمہوری طریقے سے نہ روکا جائے۔ ان کے جمہوری حقوق کو پامال نہ کیا جائے،انتخابات میں ان کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو بلاوجہ کے اعتراضات لگا کر مسترد نہ کیا جائے۔ ان کی سیاسی جماعت اور امیدواروں کو انتخابات میں بھرپور شرکت کو موقع دیا جائے۔
سیاسی جماعتوں اور جمہوری عمل تک تو لیول پلیئنگ فیلڈ کا تقاضا آئین کے عین مطابق ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس تقاضے کے پیچھے شکوہ کناں وہ بھی ہے جو اس ملک کو نذر آتش کرنے میں ملوث رہے، جنہوں نے پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا، جنہوں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جنہوں نے شہدا کی یاد گاروں کو آگ لگائی، جنہوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کر کے پوری دنیا میں وطن عزیز کا تمسخر اڑایا، جنہوں نے جناح ہاؤس پر حملہ کر کے تحریک پاکستان کی تضحیک کی۔
انتخابات اب زیادہ دور نہیں۔ ریاست پاکستان کو ان انتخابات سے پہلے کچھ سوالات درپیش ہیں۔ ان کے جوابات تلاش کیے بغیر نہ سیاست آگے بڑھ سکتی ہے نہ جمہوریت پنپ سکتی ہے، نہ الیکشن کا ڈول ڈالا جا سکتا ہے نہ سماج میں کوئی مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ نہ نوجوانوں کو درست درس دیا جا سکتا ہے نہ کسی کو تاریخ کا سبق پڑھایا جا سکتا ہے۔ نہ اسلاف کے کارنامے بتائے جا سکتے نہ اخلاف کو مستقبل کے زریں اصول بتائے جا سکتے ہیں۔ ابہام کی صورت حال سے نکلنے کے لیے ان سوالات کا فوری جواب ضروری ہے۔ یہ جواب انتظار نہیں کر سکتا۔ یہ جواب آج اور ابھی لازمی ہے۔ کیونکہ التوا ابہام کو بڑھائے گا۔
کیا وہ لوگ جنہوں نے جانتے بوجھتے پاکستان کو آگ لگائی وہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر شکوہ کر سکتے ہیں؟ اور اگر ان کے شکوے کو ہم نے لیول پلیئنگ فیلڈ کہنا ہے تو کیا ہر دہشت گرد، فتنہ پرداز، ہر انتشار پسند کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر بھی ریاست اسی طرح کے شکوے سنے گی؟ کیا شہدا کی یاد گاروں کو سرعام نذر آتش کر نے والے انتشاریوں کو وہی لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے جو کسی سیاسی جماعت کو ملتی ہے؟ کیا ایک منتقم المزاج شخص کے کہنے پر ملک بھر کو تہس نہس کرنے والے اشخاص کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے؟ کیا غنڈہ گردی، بد امنی، دہشت گردی، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار میں ملوث افراد کو بھی لیول پلیئنگ فلیڈ ملنی چاہیے؟ کیا جعلی وڈیو بنا کر عوام کو اشتعال دلانے والوں کو بھی لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے؟ کیا تکبر اور رعونت کے نشے میں بدمست ایک شخص کے فرمان پر ملک بھر میں تباہی پھیلانے والے افراد کو بھی لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے؟
اگر لیول پلیئنگ فیلڈ کے یہی معنی ہیں تو پھر ہر غنڈہ، ہر بدمعاش، ہر اچکا، ہر مجرم، ہر دہشت گرد، ہر بلوائی کسی نہ کسی سٹیج پر ریاست کا گریبان پکڑے گا اور کہے گا مجھے بھی لیول پلیئنگ فیلڈ دو۔ میرا بھی احترام کرو۔ مجھے بھی سلام کرو۔ مجھے انتشار پھیلانے کی اجازت دو۔ مجھے لوگوں کی زندگی اجیرن کرنے کا اذن دو۔ مجھے اپنے ملک کو ساری دنیا میں بدنام کرنے کی آزادی دو۔ مجھے سماج میں نفرت پھیلانے کی چھٹی دو۔ مجھے دوسروں کے حقوق سلب کرنے کی اجازت دو۔ اس لیے کہ ہماری سیاست میں ایک نئی اصلاح در آئی ہے جسے ‘لیول پلیئنگ فیلڈ’ کہتے ہیں۔
یاد رکھیں ‘لیول پلیئنگ فیلڈ’ جیسی اصطلاحوں کا اطلاق جمہوری جماعتوں اور فلسفوں پر ہوتا ہے۔ شدت پسند اور دہشت پسند جماعتوں کو ریاست ‘لیول پلیئنگ فیلڈ’ نہیں دے سکتی۔ کیونکہ اگر ایک دفعہ ریاست نے یہ غلطی کر دی تو پھر ہر مجرم اس اصطلاح کے بہانے اسی سہولت کا تقاضا کرے گا۔ جس طرح سیاسی جماعتیں اور دہشت پسند تنظیمیں ایک نہیں ہو سکتیں، اسی طرح سیاسی جماعتوں کے امیدوار اور انتشاری جماعتوں کے مجرمانہ ذہنیت اور کردار کے افراد بھی ایک نہیں ہو سکتے۔
کاغذات نامزدگی جمع کروانا اور پھر ان کا منظور یا مسترد ہونا ایک جمہوری عمل ہے۔ اس کا کوئی تعلق کسی ایسی جماعت سے نہیں ہے جو نہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے نہ سیاست پر نہ اس ریاست پر۔
اگر آج سوشل میڈیا کے دباؤ میں آ کر، جعلی وڈیوز کے پریشر میں آ کر، ٹوئیٹر کے ٹرینڈز سے گھبرا کر ریاست ان انتشاری افراد کو سیاست میں شمولیت کی اجازت دے دے گی تو اس جرم کی سزا پچیس کروڑ عوام کو کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑے گی۔
آج ریاست ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ جو لوگ ریاست کو تسلیم نہیں کرتے، جو پاکستان کی تعظیم نہیں کرتے، جو اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر سبز پاسپورٹ کو نذر آتش کر دیتے ہیں، جو اپنے انتشاری لیڈر کے کہنے پر سبز ہلالی پرچم کو پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔ وہ نہ ریاست کے لیے قابل قبول ہیں نہ سیاست کے لیے۔ ان کے لیے ‘لیول پلیئنگ فیلڈ’ کوئی نہیں۔ ان کے لیے صرف ایک آہنی ہاتھ ہی ہے جو ایسے فسادیوں سے نمٹنا خوب جانتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













