ہر وہ شخص جس کو پاکستانی سیاست میں یا پھر یوں کہیے کہ ہر وہ شخص جس کو پاکستان میں ذرا سی بھی دلچسپی ہے وہ ستائیس دسمبر دو ہزار سات کا دن کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ اس روز لیاقت باغ میں ایسا سانحہ ہوا جس نے ہماری ساری تاریخ کو لہو رنگ کردیا۔
پیپلز پارٹی ابھی بھٹو کی شہادت کے دہائیوں بعد بھی ’زندہ ہے بھٹو‘ کے نعرے لگانے میں مگن تھی کہ بے نظیر کی خون میں لت پت لاش نے آ گری۔ ابھی پہلا ماتم تھما نہیں تھا کہ گریے کے ایک نئے طوفان نے گھیر لیا۔ پہلی قربانیوں پر ابھی آہ و زاری رکی نہ تھی کہ پھر ایک اور لہو کا دریا انہیں درپیش ہوگیا۔ اس دفعہ ماتم محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہاں موت کا تھا۔ بیٹی وہ قوم کی تھی، لیڈر وہ سندھ کی تھی اور میدان راولپنڈی کا تھا۔
دوسرے صوبوں سے آئے لیڈروں کو تابوتوں میں بھیجنے کا فن لیاقت باغ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ کبھی پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی روح سے پوچھیے گا جو آج بھی اپنے قاتل کی تلاش میں مارے مارے پھر رہی ہے۔ کبھی اے این پی کے کارکنوں کے بے گورکفن لاشوں کے ورثا سے یہ پوچھیے گا۔ کبھی پڑوس میں بھٹو کی قتل گاہ پر قائم پارک کی زمین کے ذروں سے پوچھیے گا۔ کبھی بے نظیر کی آخری تصویر میں پہنے پھولوں کے ہار کی لہو لہو پتیوں سے پوچھیے گا کہ اس باغ میں کسی اور صوبے کا لیڈر زیادہ دیر سانس کیوں نہیں لے سکتا؟ اپنے نظریے، اپنی سوچ کے ساتھ کیوں نہیں جی سکتا؟
الیکشن کی گہماگہمی ہے۔ ہر جماعت اپنی بساط سے بڑھ کر قسمت آزما رہی ہے۔ چند دنوں میں قوم نے کسی ایک کے حق میں فیصلہ کرنا ہے۔ اس لیے ہر کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن سندھ میں قسمت آزما رہی ہے، بلاول پنجاب میں قوم کو للکار رہے ہیں، ایم کیو ایم اندورن سندھ پیپلز پارٹی کو چیلنج کر رہی ہے، جماعت اسلامی اپنے آپ کو واحد حل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بلوچستان کی سیاست تخریبی جماعتوں سے اکتا کر قومی جماعتوں کی طرف پلٹ رہی ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف والے بینگن میں اقبال کے شاہین والی خوبیاں تلاش کر رہے ہیں۔
پنجاب پیپلز پارٹی کے لیے نیا میدان نہیں۔ پیپلز پارٹی کا جنم پنجاب میں ہوا۔ بھٹو کو پھانسی سے پہلے جب ایک دفعہ جیل سے نکالا گیا تو انہوں نے لاہور ہی میں تاریخ ساز جلسے کیے۔ انیس سو چھیاسی میں بے نظیر بھٹو نے ضیا الحق کے دور میں واپس آ کر تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ لاہور ہی میں کیا۔ پنجاب میں کئی جیالوں نے بھٹو کی پھانسی کے بعد خود کو نذر آتش کر لیا۔ لاہور کے شاہی قلعے کے تہہ خانے کی دیواریں پیپلز پارٹی کے جیالوں پر خوفناک تشدد کی گواہ ہیں۔ پنجاب ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کی سیاست کا گڑھ رہا مگر دوہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ کے دور حکومت میں پیپلزپارٹی پنجاب کو نظر لگ گئی۔
دوہزار آٹھ کے بعد پرانی پیپلز پارٹی ختم ہو گئی اور ایک نئی قسم کی پیپلز پارٹی نے جنم لیا جس کا تعلق صرف بری گورننس، کرپشن اور اقربا پروری سے تھا۔ لوگ بھٹو اور بے نظیر کو یاد کرتے رہے مگر اس کا نتیجہ بہت بھیانک نکلا۔
صرف پانچ سال کے دور میں پنجاب سے پیپلز پارٹی کا مکمل صفایا ہوگیا۔ اس دور کی یادگاریں کرپشن، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی، ناکے، ٹریفک جام، وزراء کی فوج ظفر موج کے سوا کچھ بھی نہیں۔ وہ جماعت جس کا مذہب اسلام اور نظریہ سوشلزم تھا، جس نے سب سے پہلے روٹی، کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا تھا، جس نے نیوکلیئر پروگرام کی داغ بیل ڈالی، جس نے پاکستان میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کروائی، جس کے دور میں کراچی میں سٹیل مل لگی، وہ جماعت کرپشن کے الزامات میں دفن ہوکر رہ گئی۔ عوام نے اپنی محبت کو شاید پہلے کبھی اس قدر تیز رفتاری سے مسترد نہیں کیا ہوگا۔
دو ہزار تیرہ کو گزرے اب گیارہ برس بیت گئے، اس عرصے میں اسٹیبلشمنٹ، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ سب نے بہت سے سبق سیکھ لیے۔ بلاول بھٹو بھی اب بچے نہیں رہے۔ اب وہ ایک نوجوان زیرک سیاستدان کے روپ میں سامنے آ رہے ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت میں ان کی بحیثیت وزیرخارجہ کارکردگی قابل تعریف رہی۔ پارٹی میں بلاول بھٹو پر لگی قدغنیں اب ٹوٹ رہی ہیں۔ وہ خود فیصلے کر رہے ہیں، درست بیانیہ اختیار کر رہے ہیں، سیاست کے داؤ پیچ سیکھ رہے ہیں۔ لاہور کے حلقہ این اے ایک سو ستائیس سے انتخاب لڑنا ایک دلیرانہ فیصلہ ہے۔ ابھی تک وہ ایک کامیاب کمپئین کر رہے ہیں۔ بے نظیر کا بیٹا لاہور سے الیکشن لڑ رہا ہے یہ نہایت خوش کن منظر ہے۔
بلاول بھٹو ن لیگ پر تاک تاک کر وار کر رہے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے۔ وہ تحریک انصاف کے ووٹر کو اپنی طرف ملتفت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اینٹی نواز ووٹر کے اذہان و قلوب کو مسخر کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کا واحد طریقہ ن لیگ پر تنقید ہے۔ سیاسی طور پر دیکھا جائے تو بہت اچھی سیاسی چال ہے۔ اس سے ایک طرف تو وہ تحریک انصاف کے ووٹرز کو پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں، دوسرا پیپلز پارٹی کے گمشدہ ووٹر کو بھی آواز دے رہے ہیں کہ اس کی جماعت ابھی زندہ ہے اور اس کا جواں سال لیڈر اب پنجاب سے الیکشن لڑ رہا ہے۔
میری بلاول بھٹو سے کبھی ملاقات نہیں رہی لیکن جانے کیوں اس کالم کے توسط سے ان کو ایک مشورہ دینے کو دل چاہ رہا ہے کہ پنجاب کے عوام کے دل میں گھر کرنے کے لیے انہیں عمران خان کا لب ولہجہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پنجاب والوں کے دل جیتنے کے لیے انہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی فراست اور ذوالفقار علی بھٹو کی دانش ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













