جہاں امن نہیں وہاں کی معیشت مضبوط نہیں ہوتی، مولانا فضل الرحمان

جمعرات 25 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ جس ملک میں امن نہ ہو وہاں کی معیشت بھی مضبوط نہیں ہوتی، ہماری معیشت ناقص صورتحال کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے۔ حکومتی پالیسی کے سبب ہی معیشت کمزور یا مضبوط ہوتی ہے۔

ملتان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جمیعت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 3 سال ملک پر فتنہ مسلط تھا، اس فتنے نے منصوبہ بندی کے تحت ملکی ایجنڈے اور معیشت کو نقصان پہنچایا۔ آج معیشت کی جو حالت ہے اسی فتنہ کی بدولت ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری سیاست شریعت کے مطابق ہے، شریعت پر چلنے کے لیے علم کا ہونا بہت ضروری ہے، دینی علم کی پختگی کے بغیر سیاست کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے جانی، مالی عزت وآبرو کے حقوق اور ان کا تحفظ اہم مسئلہ ہے، آج جو سیاست ہو رہی ہے وہ شریعت کی نظر میں درست نہیں ہے۔ اس کو مفادات کی جنگ کہہ سکتے ہیں، مگر یہ سیاست نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات زور شور پر ہیں، اور ہرامیدوار سوچتا ہے کہ کامیابی کے لیے الیکشن لڑوں گا، عوام نے منتخب کرنا ہے لیکن عوام سے یہی چاہتے ہیں کہ سوچ سمجھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت، مکمل حمایت کا اعادہ

ایران کو بڑی حد تک ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دیا، ٹرمپ کا دعویٰ

ایران میں فوجی تنصیبات پر مزید امریکی حملے، تہران کا خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے