بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر

منگل 6 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف نے بلے کا نشان واپس لینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کر دی ہے۔

سینئر وکیل حامد خان اور بیرسٹر علی ظفر نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

نظرثانی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال کرے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انٹراپارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق کروائے گئے، الیکشن کمیشن انٹراپارٹی انتخابات کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں رکھتا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، کسی بھی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لینا ووٹرز کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق سیاسی جماعت بنانے اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق آئین پاکستان میں ہے، الیکشن کمیشن کا انتخابی نشان واپس لینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان واپس لے کر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت پشاور ہائیکورٹ میں شکایت کنندگان کو فریق بنایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں