علما و مشائخ کونسل نے ملکی استحکام کے لیے ’میثاق پاکستان‘ کی تجویز پیش کر دی

بدھ 21 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے سیاسی و مذہبی جماعتوں پر ’میثاق پاکستان‘ کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے سب کو مل کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

بدھ کو پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ہونے والے میثاق پاکستان علما و مشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تجویز پیش کی کہ افواج پاکستان، عدلیہ، تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں اور ایک میثاق اس مملکت خداداد پاکستان کے بھی طے کریں۔

انہوں نے تجویز کیا کہ اس کا نام ’میثاق پاکستان‘ ہونا چاہیے جس میں یہ واضح ہو کہ ملک کو آئندہ 25 سال کے لیے کس طرح چلانا ہے۔ جس میں پاکستان کو در پیش معاشی مسائل کا حل ہو جس میں ملک میں ایک دوسرے کے لیے پائی جانے والی انتہا پسندی و عدم برداشت کے خاتمے کا مؤثر حل موجود ہو۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں، انتخابی نتائج کے حوالے سے تنازعات حل کرنے کے لیے آئین و قانون کا راستہ اختیار کیا جائے، الیکشن کمیشن اور عدلیہ اس حوالہ سے غیر جانبدار انہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ معاشی استحکام بھی سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا تب تک ہم معاشی استحکام کی جانب کامیابی سے نہیں بڑھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے جن جماعتوں کو شکوک و شبہات ہیں انہیں آئین و قانون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور الیکشن کمیشن کو فوری طور پر ان کے تحفظات دور کرنے چاہیے ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنا کسی بھی صورت درست نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن اور عدلیہ انتخابی تنازعات کے حل کیلئے غیر جانبدارانہ کردار ادا کریں جس سے تمام جماعتوں میں اطمینان پیدا ہو۔

انہوں نے کہا کہ میثاق پاکستان میں ملک کی خارجہ داخلہ پالیسی کو بھی واضح کیا جائے، مسائل غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے نوجوان نسل کو انتہا پسندی، دہشت گردی، شدت پسندی سے دور کرنے اور ان کی اصلاح کے لیے پلان تشکیل دیاجائے۔

ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے بھی قیام پاکستان کے وقت واضح کردیا تھا کہ ہمارا آئین اور دستور ساڑھے 13 سو سال پہلے آ چکا ہے ۔ قرارداد مقاصد میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا واضح نظام موجود ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت پر ہمارا موقف واضح ہے ہماری روح و خون میں عقیدہ ختم نبوت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ محراب و منبر سےلے کر ذرائع ابلاغ تعلیمی ادارے سب کو اس طرف سوچنا ہوگا کہ قیام پاکستان کا مقصد حاصل ہوا ہے کہ نہیں؟۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

 قطر نے پاکستان کے ساتھ نئی تجارتی شراکت داری قائم کی ہے، وزیر خزانہ

علامہ راغب حسین نعیمی کو چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مقرر کردیا گیا

تیسرا ون ڈے، بھارت نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی

عمران خان کا بیانیہ فیل، فتنہ فساد کرنے والوں کو زمین میں دفن کردیں گے، فیصل واوڈا

عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، اب جیل کے باہر مجمع لگانے کی اجازت نہیں دی جائےگی، وزیر اطلاعات

ویڈیو

اسکوٹی چلانے والی لڑکیاں غیر محفوظ کیوں، اور نصرت جاوید نے بھارت میں حیران کن چیز کیا دیکھی؟

کراچی کو صوبہ بنانے کے معاملے پر وفاقی حکومت کس کے ساتھ کھڑی ہے؟

پاکستان پر افغان طالبان رجیم کے حملے، تاجکستان اور ایران بھی عدم استحکام کا شکار ہیں، افضل رضا

کالم / تجزیہ

ایک کہانی جس کا انجام توقع کے برعکس نکلا

مغربی لٹریچر اور ہمارے نوجوان علما

دنیا بھر میں افغان طالبان کے خلاف ماحول بنتا جا رہا ہے