‎علی امین گنڈاپور کے آزاد کشمیر میں ضمانتی مچلکے جمع

بدھ 28 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخواہ کے نامزد وزیر اعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈآ پور نے  بدھ کو آزاد کشمیر میں ضمانتی مچلکے جمع کرادیے۔

الیکشن کمیشن نے 14 فروری کو علی امین گنڈا پور کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کو تحریری طور پر ہدایت کی تھی کہ انہیں گرفتار کرکے 28 فروری کو  الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔

‎الیکشن کمیشن نے حکم نامے میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر علی امیں گنڈا پور 50 ہزار روپے کے  ضمانتی مچلکے جمع کرائیں  تو ایسی صورت میں  ان کو حراست میں نہ رکھا جائے۔

پی ٹی آئی کے رہنما نے ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر کے پاس ضمانتی مچلکے جمع کرائے جس کے بعد ان کو حراست میں نہیں لیا گیا۔

منگل کو ان کے وکیل الیکشن کمیشن پیش ہوئے اور الیکشن کمیشن نے 5 فروری تک اس مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما 5 فروری کو الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوتے تو ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم