پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان نژاد باشندوں کے ملوث ہونے کی تصدیق

پیر 4 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغانی نژاد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) کے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، دہشت گرد نیٹ ورک کو افغان دہشت گردوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ عالمی برادری پاکستان میں ہونے والی افغان دہشت گردوں کی سرگرمیاں روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، جن کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغانی نژاد کالعدم پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق کر لی گئی ہے۔

جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری 2024 کو شمالی وزیرستان میں مارے جانے والے  ٹی ٹی پی کے 6 دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے نکلا ہے۔ پاکستان میں ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد نیٹ ورک کو افغان دہشت گردوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

ٹی ٹی پی کا افغان شہریوں پر انحصار بڑھتا جا رہاہے

پریس ریلیز کے مطابق پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کا افغان شہریوں پرانحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں پاک فوج کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے والے 6 دہشت گردوں کی شناخت کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع نے آپریشن کے دوران ایک خودکش حملہ آور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔

ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں محمد انور ولد انگور خان سکنہ خوست، حمزہ سکنہ لوگر، فرمان سکنہ لوگر، شبیر جان عرف عابد سکنہ خوست، گل جان سکنہ پکتیکا اور طلحہ عرف ضرار شامل ہیں ۔

مزید برآں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں تیر تنگی، شمالی وزیرستان کا رہائشی 16 سالہ مبینہ خودکش بمبار عابد اللہ ولد جمال بھی شامل ہے۔

دہشت گرد کارروائیوں میں افغان باشندوں کا استعمال افغان عبوری حکومت کے دعوؤں کی نفی ہے

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (ٹی ٹی پی ) کا افغان شہریوں کا پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال افغان عبوری حکومت کے دعوؤں کی نفی اور سوالیہ نشان ہے۔

افغان عبوری حکومت کو اپنے شہریوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں سے روکنے کے لیے ٹھوس اور مخلص اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری پاکستان میں ہونے والی افغان دہشت گردوں کی سرگرمیاں روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2 مارچ کو افغان طالبان نے ایک اجلاس کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان میں حملوں کرنے سے خبردار کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان طالبان نےکالعدم ٹی ٹی پی کو خبردار کیا ہےکہ وہ پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سر زمین کے استعمال سے باز رہے۔

ٹی ٹی پی کی پاکستان میں کارروائیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کمزور ہوئے ہیں، اس حوالے سے افغان طالبان کا خیال ہےکہ ٹی ٹی پی کے ساتھ ملاقاتوں سے حالات میں بہتری آئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ