ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ نواز شریف کے خلاف درج کرنے کی درخواست دائر

پیر 8 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کے خلاف صحافی ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ 22 اے کے تحت درج کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج احمد ارشد محمود نے تحریری حکم جاری کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد، ایس ایس پی اور ایس ایچ او سے 19 اپریل تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسلام آباد کے شہری شاکرعلی نے نواز شریف و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ارشد شریف کا قتل قومی سانحہ ہے، ظالمانہ قتل کا مقدمہ درج کرانے کے لیے کوئی بھی درخواست دے سکتا ہے ۔

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ارشد شریف نے شریف فیملی کی کرپشن سے متعلق پروگرام کیے جب کہ نواز شریف کی کینیا میں 1998 سے شوگر مل بھی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ  تھانہ کراچی کمپنی میں 3 فروری پھر 23 فروری کو درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہیں ہوا، نواز شریف و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ ملزمان کا نام ای سی ایل پر بھی ڈالا جائے تاکہ اشتہاری نہ ہو سکیں ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ژوب میں مسافر بس کھائی میں گر گئی، خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق، 14 زخمی

’لاہور میں ہماری بہترین مہمان نوازی کی گئی‘ عمران ہاشمی نے پاکستانیوں کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت، دہشتگرد حملوں کے خلاف کارروائیوں کو جائز قرار دیا

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

عامر خان نے تیسری شادی کا اعلان کردیا، شادی کب اور کہاں ہوگی اور کون لوگ مدعو ہوں گے؟

ویڈیو

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن کا بنیادی ستون، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل نہیں کر سکتا، احمر بلال صوفی

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو