مہوش حیات کی سرگرمیاں محدود، باڈی گارڈز رکھ لیے؟

اتوار 8 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی معروف اداکارہ مہوش حیات کے حوالے سے افواہیں زیرِ گردش ہیں کہ انہوں نے اپنی سیکیورٹی کے لیے پرائیویٹ باڈی گارڈز رکھ لیے ہیں۔

اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ مہوش حیات نے مبینہ طور پر سیاسی خبروں اور خود پر ہونے والی تنقید کے بعد باڈی گارڈز کی خدمات حاصل کی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مہوش حیات نے اپنی نقل وحرکت اور دیگر سرگرمیاں بھی محدود کر دی ہیں۔

اداکارہ سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اب وہ رکھے گئے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کے گارڈز کے ساتھ ہی باہر جایا کریں گی۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پراداکاراؤں پر الزام لگانے والے شخص پر مہوش حیات نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

ثبوت سامنے لائیں، ورنہ بیان واپس لیں، اداکاراؤں کی کردار کشی کرنے والے کو وارننگ

مہوش حیات نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا تھاکہ ’سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگ انسانیت کے درجے سے بھی گر جاتے ہیں، مجھے امید ہے کہ آپ نے اپنی یہ 2 منٹ کی شہرت سے خوب لطف اُٹھایا ہو گا‘۔

علاوہ ازیں31 دسمبر کو سوشل میڈیاپر مہوش حیات نے ایک مختصر ویڈیو شیئر کی تھی جس پر کچھ صارفین نے ان کے لباس پر تنقید کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا