شکرقندی آلو سے بہتر ہے

اتوار 8 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شکرقندی کا موسمِ سرما میں استعمال خاصا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، یہ جسم کو حرارت دیتا ہے۔

یہ وٹامن اے کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اس میں بیٹا کیروٹین، فاسفورس، میگنشیم، وٹامن بی وَن، وٹامن بی ٹُو، وٹامن سی، وٹامن بی-6، کیلشیم، آئرن، پوٹاشیم، ڈائٹری فائبر(Dietary fiber) اور نیاسین جیسے کئی مفید اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

شکرقندی آلو کی ہی ایک قسم ہے لیکن اس کے میٹھے ذائقے کی وجہ سے اسے میٹھے آلو کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

یہ عام خیال کیا جاتا ہے کہ آلو کا زیادہ استعمال صحت بخش نہیں، کیوں کہ آلو کو زیادہ تر فرینچ فرائز کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اُس صورت میں ان میں چکنائی اور سوڈیم خاصی مقدار میں شامل ہوجاتا ہے جو کہ مضر صحت ہے۔

اس کے برعکس شکرقندی کو بھون کر اور اُبال کے استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ صحت کے لیے بے حد مفید ہے جبکہ اس کی چاٹ اور کھیر بھی بے حد لذیذ بنتی ہے۔

یوں تو شکر قندی ہر فرد ہی کے لیے فائدہ مند ہے لیکن بُلند فشارِ خون اور ذیابطیس میں مبتلا افراد اس کے استعمال میں احتیاط برتیں۔

اس کے کئی طبی فائدے بھی ہیں جن میں معدے کی صحت کو بہتر بنانا، کینسر سے لڑنے میں معاون ہونا، بینائی اور دماغی صحت کو بہتر بنانا اور قوت مدافعت کو بڑھانا شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا