مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے پاکستانی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے؟

پیر 6 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے مخصوص نشستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔ اس فیصلے سے حکمران اتحاد کو سب سے بڑا یہ چیلنج درپیش ہوگا کہ دوتہائی اکثریت چھن جانے سے آئینی ترمیم کرنا ناممکن ہوجائے گا۔

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں حاصل ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی تھی اور آئینی ترمیم کا اختیار حاصل ہوگیا تھا تاہم اب حکمران اتحاد کے لیے آئینی ترمیم کرنا ناممکن ہوگیا ہے، اس کیا علاوہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی 80 نشستیں بھی چھن گئی ہیں۔

واضح رہے کہ مخصوص نشستیں ملنے کے بعد قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی تھی اور ان کی نشستوں کی تعداد 230 ہو گئی تھی، جبکہ 336 کے ایوان میں 224 ارکان کی حمایت سے دو تہائی اکثریت حاصل ہو جاتی ہے۔

وی نیوز نے قانونی ماہرین سے رابطہ کیا اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے پاکستانی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے؟

کیا صدارتی اور سینیٹ الیکشن پر کوئی فرق پڑے گا؟

ماہر قانون شائق عثمانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ابھی اس معاملے پر سماعت ہوگی، فی الحال پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیا گیا ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب تک جو بھی پارلیمانی کارروائی ہوئی ہے، جو صدارتی یا سینیٹ الیکشن ہوئے ہیں اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ ہوسکتا ہے کہ سماعت کے بعد اب سنی اتحاد کونسل کو ان کی مخصوص نشستیں مل جائیں گی۔

’اب مرکز اور پنجاب میں نئے قائد ایوان کے لیے بحث جنم لے سکتی ہے‘

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ کا فیصلہ معطل کیا ہے، ساتھ ہی الیکشن کمیشن کا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ بھی معطل ہوگیا ہے، اس فیصلے سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی پر گہرا اثر پڑے گا، اس سے ایوان میں نئے قائد ایوان کی بحث بھی جنم لے سکتی ہے۔

کنور دلشاد نے کہاکہ یہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی 80 مخصوص نشستوں کا سوال ہے، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 104 کے تحت جو مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو منتقل کی تھیں وہ اب سنی اتحاد کونسل کو واپس ہو جائیں گی۔

اب سپریم کورٹ نے فیصلہ کرنا ہے کہ یہ نشستیں کس کو دینی ہیں، عابد زبیری

ماہر قانون عابد زبیری نے کہاکہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے دو نکات تھے، ایک تو سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی گئی اور دوسرا وہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دے دی گئیں، یہ نشستیں حاصل ہونے کے بعد حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی تھی لیکن اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دو تہائی اکثریت کھو دی ہے۔

عابد زبیری نے کہاکہ سپریم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ نشستیں اب کسی کو دینی ہیں یا نہیں۔ اب تو سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی پارٹی تسلیم کر لیا گیا ہے، تو یہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنا یقینی نظر آرہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مخصوص نشستوں کی زیادہ تعداد ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو دی گئی ہے جو اب سنی اتحاد کونسل کو واپس ملنے کا امکان ہے لیکن حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp