سانحہ 9 مئی سے سانحہ 8 فروری تک

بدھ 8 مئی 2024
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

9 مئی ایک سانحہ ہے جو گزر ہی نہیں رہا۔ اس روز کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ کس کس کے کہنے پر ہوا؟ یہ تو سب کو یاد ہے۔ یاد کروایا گیا ہے۔ بار بار یہ آموختہ دوہرایا گیا ہے۔ ریاست کے ساتھ کیا ظلم ہوا سب کو بتایا گیا ۔ بار بار ٹی وی سکرینوں پر دکھایا گیا ہے۔ لیکن کیا اس سے ریاست کی رٹ تسلیم ہوئی ہے؟ کیا ریاست کے خلاف انقلاب لانے والوں کا حوصلہ ٹوٹ گیا ہے؟ کیا ذہن سازی کی ترکیب کارگر ہوئی ہے؟ یا پھر گرفتاریوں سے لوگ ڈر گئے ہیں؟ کیا پریس کانفرنسز کرنے  والوں کی سماج میں کوئی پذیرائی ہوئی ہے؟ کیا بغاوت سے لوگ منحرف ہوئے ہیں؟ کیا ففتھ جنریشن وار کے بعد سکستھ جنریشن وار بھی کامیاب ہوئی ہے؟ بہت سے سوالات لوگوں کے چہروں پر لکھے ہیں لیکن جواب نہیں مل رہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ہم اپنے تراشے ہوئے بتوں کی پرستش کے لیے دام میں ایک بار پھر آ چکے ہیں۔ ہماری تاریخ میں یہ پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے۔ اس بار گرچہ کیفیت، شدت، حدت مختلف تھی مگر نتیجہ وہی نکلا ہے جو ریاست نے چاہا تھا۔

یاد رکھیے!  زبانوں پر قفل لگانے سے سوچوں پر تالے نہیں لگ جاتے۔ یہ بات بہت پہلے سمجھ جانی چاہیے تھی مگر نہ پہلے سمجھی گئی ہے نہ اب سمجھی جا رہی ہے۔ لوگ ردعمل دکھاتے ہیں۔ طریقہ سلیقہ قرینہ مختلف ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت جب ردعمل دکھاتی ہے تو اس ردعمل کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ اس سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں، اس کے سامنے ریت میں سر نہیں دیا جا سکتا۔ خود سے بڑے پیمانے پر جھوٹ نہیں بولا جا سکتا۔

9 مئی کے روز جو کچھ ہوا، غلط ہوا۔ کوئی اس کی توصیف نہیں کر سکتا۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کور کمانڈر لاہور یعنی جناح ہاؤس کو جلانا کوئی احسن اقدام تھا، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پشاور کے تاریخی ریڈیو سٹیشن کی عمارت کو نذر آتش کرنا اچھی بات تھی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سارے پاکستان کے رستوں کو بند کر کے لوگوں کی زندگی کو عذاب بنا دینا کوئی اچھا قدم تھا، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سرکاری املاک پر حملہ کوئی داد طلب بات تھی، کوئی نہیں کہہ سکتا فوج کی جیپوں پر پتھروں کی بارش سے کوئی قومی خدمت ہوئی ہے۔ کوئی نہیں  کہہ سکتا  کہ نوجوانوں سے پاکستان مخالف یا فوج مخالف نعرے لگوانا کوئی قابل تحسین عمل تھا۔ کسی کا حوصلہ نہیں کہ وہ شہدا کی یادگاروں کو نذر آتش کرنے کی تقلید کرے۔

جو کچھ ہوا غلط ہوا، اس لیے کہ طریقہ غلط تھا۔ اختلاف کا حق ضرور ہے مگر توڑ پھوڑ کا حق نہیں۔ ملک مخالف یا فوج مخالف مہم جوئی حق نہیں ہے۔ یہ ملک دشمنی کے زمرے میں آئے گی۔ تاریخ اسے انہی الفاظ میں یاد کرے گی۔ اب پی ٹی آئی کی  تاویلیں جو کچھ بھی ہوں تصویریں کسی اور بات کی غماز تھیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ  اسی جماعت کا، اسی سوچ کا طریقہ، قرینہ 8 فروری کو تو درست تھا نا؟ 8 فروری کو انتخابات ہوئے، سیاست کا میدان سجا۔ سب جماعتوں کو برابر کا موقع ملا مگر ایک جماعت پر 9 مئی کی تہمت برقرار رہی۔ اس کو ریاست نے ہر طریقے سے ناپسندیدہ قرار دیا۔ نہ اس کو انتخابی نشان ملا ، نہ مہم چلانے کی سہولت نصیب ہوئی، نہ یہ جماعت اپنے امیدوار کھڑے کر سکی نہ اپنا بیانیہ پیش  کرسکی،  نہ الیکٹرانک میڈیا پر اس کی کوئی شنوائی ہوئی، خوف اس کا انتخابی نشان بن کے رہ گیا تھا، جیل کی سلاخیں اس کے لوگوں کی انتخابی مہم تھیں، اپنے لوگوں کی زور زبردستی پریس کانفرنسز ان کا بیانیہ تھا، تضحیک آمیز انتخابی نشانات ان کی شناخت تھے۔ ان کی ساری قیادت پس زندان تھی۔ اس کے باوجود اس پارٹی کو ووٹ پڑا اور بے تحاشہ پڑا۔ تسلیم ہوئے یا نہیں یہ دوسرا قصہ ہے۔ باریاب ہوئے یا نہیں یہ ایک الگ داستان ہے۔

8 فروری کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے 9 مئی کا پُر امن جواب دیا مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس وقت تک ’ساڈی گل ہو گئی اے‘ کا بیانیہ سامنے آ چکا تھا۔ اس وقت تک نئی صف بندی سامنے آ چکی تھی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود اگر آپ 8 فروری کے پی ٹی آئی کے ورکرز کے حوصلے کی تعریف نہیں کریں گے تو آپ جمہوری قدروں اور سوچوں کے ساتھ ناانصافی کریں گے۔

ریاست کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ اگر نو مئی کی سزا ملنی چاہیے تو 8 فروری کی جزا بھی مقدر بننی چاہیے۔ اگر دہشت گردی اور جلاؤ گھیراؤ پر طعنہ زن ہونا چاہیے تو پھر پُر امن رہنے پر توصیف بھی ہونی چاہیے۔ اگر ہیجان کی ممانعت ہونی چاہیے تو پھر امن کی ترویج بھی تو ہونی چاہیے۔  لیکن ریاست ابھی پی ٹی آئی کو 9 مئی کی مجرم تصور کر رہی ہے 8 فروری کی فاتح نہیں۔ یہی بنیادی وجہ عناد ہے۔

اب عمران خان کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ سیاسی جماعتیں کیوں میثاق جمہوریت کرتی ہیں۔ عمران خان کے ووٹر نے بہت جلدی سبق سیکھ لیا ہے۔ اس نے انتشار کی سیاست کو چھوڑ کر امن کی سیاست کا دامن تھام لیا ہے۔ اب یہ وہ مرحلہ ہے جب عمران خان کو بھی اپنا سبق سیکھنا ہے، انہیں  مذاکرات کرنے ہیں، میز پر بیٹھنا ہے۔ لیکن اگر یہ مذاکرات انہی سے ہوں گے جن کے کندھوں پر بیٹھ کر سیاست دان اقتدار میں آتے ہیں اور پھر ان کے خلاف ہو جاتے ہیں تو عمران خان ہمیشہ 9 مئی اور 8 فروری کے درمیان شٹل کاک بنے رہیں گے۔  اب سبق عمران خان کے ووٹر نے نہیں عمران خان نے پڑھنا ہے۔ وہ اگر اس سٹیج پر تمام سیاسی قوتوں سے مذاکرات کی ہامی بھر لیں  تو  جمہوریت کی منزل آ سکتی ہے ورنہ تو پھر یہی سب کچھ ہو گا جو ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp