کیا رات گئے تک جاگنا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے؟

پیر 9 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رات گئے تک جاگنے والے افراد میں امراض قلب اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

یہ انتباہ حالیہ برسوں میں کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ایسی عادات کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

نومبر 2018 میں برطانیہ کی Northumbria یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں صبح جلد جاگنے والے افراد اور رات گئے سونے والوں کی صحت کا موازنہ کیا گیا تھا۔

اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جلد سونے یا رات گئے تک جاگنے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ رات گئے تک جاگنے کے عادی افراد میں امراض قلب اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ علی الصبح جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق رات گئے سونے والے افراد صحت کے لیے نقصان دہ غذاؤں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جبکہ چینی، کیفین اور فاسٹ فوڈ کا بھی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد اکثر ناشتہ نہیں کرتے اور یہ تمام غذائی عادات ذیابیطس ٹائپ 2 اور امراض قلب کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

اسی طرح مئی 2021 میں اٹلی کی نیپلز فریڈریکو دوم کی تحقیق میں بتایا گیا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ذیابیطس اور امراض قلب کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق سونے اور جاگنے کے معمولات انسانی صحت کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں اور رات گئے تک جاگنے والے افراد رات کو زیادہ مقدار میں کھانا کھانے کے عادی ہوتے ہیں جبکہ ان میں تمباکو نوشی اور ورزش نہ کرنے جیسی نقصان دہ عادات بھی پائی جاتی ہیں۔

اس کے نتیجے میں ان افراد کا جسمانی وزن بڑھتا ہے اور یہ اضافی وزن امراض قلب اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لکی مروت میں پولیس کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک، ایک زخمی فرار

امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کا انتہا پسند بائیں بازو کو روکنے کا عزم

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

ملک و قوم کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے خلاف بات کرنا ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، جہاں آرا وٹو

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ آرکٹک سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دیدی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا