حکومتِ پاکستان آئی ایم ایف کے سامنے ڈھیر، گیس اور بجلی مزید مہنگی ہوگی

بدھ 15 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آئی ایم ایف کے وزارت خزانہ سے جاری مذاکرات میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور پرائمری خسارے میں کمی کے لیے بات چیت کی جارہی ہے۔ اس دوران اگلے سال کے بجٹ اہداف پر آئی ایم ایف کو بریفنگ بھی دی جارہی ہے۔

آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کے درمیان جاری مذاکرات میں ریاستی ملکیتی اداروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی پر بات چیت کی گئی، تاہم آئی ایم ایف نے گردشی قرض میں اضافے پر تشویش کا اظہار کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 150 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان نے رواں سال کے آخر تک گردشی قرض 2300ارب روپے تک محدود رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے جولائی میں گیس اور بجلی کی قیمت بڑھانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے، ذرائع وزارت توانائی کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے وزارت توانائی حکام سے مزید مذاکرات جاری ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ اور وزارت توانائی کے بعد آئی ایم ایف کے ایف بی آر کے درمیان مذاکرات بھی آج شام کو ہوں گے۔

واضح رہے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات تقریباً 2 ہفتے تک جاری رہیں گے، وزارتِ خزانہ کے حکام کی آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام کے علاوہ نئے مالی سال کے بجٹ پر بھی مشاورت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کا سب سے بڑا ٹاکرا آج: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آمنے سامنے

ملک بھر میں گرمی کی لہر، کراچی میں گرم و مرطوب بادل، لاہور میں دوبارہ تپش، بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

مشکل وقت میں ریاست بچانے کا فیصلہ، تاریخ وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو یاد رکھے گی، عطا تارڑ

آزادکشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں کیوں ضروری ہیں اور آئین کیا کہتا ہے؟

پیراگوئے میں پہلی بار میٹھے پانی میں حیران کردینے والی نئی نسل کی جیلی فش دریافت

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں