ہمارا لائف اسٹائل اور صحت کے مسائل

جمعرات 23 مارچ 2023
author image

آمنہ سویرا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اس وقت پاکستان میں ہی نہیں، دنیا بھر میں سست روی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سینڈیٹری لائف سٹائل یعنی سست طرز زندگی کا مطلب ہے، ایک ایسا طرز زندگی جس میں بہت زیادہ بیٹھنا اور لیٹنا شامل ہے، جس میں کوئی ورزش شامل نہیں ہے۔

سست طرز زندگی گزارنے والے زیادہ تر لوگوں میں زیادہ جسمانی سرگرمی نہیں ہوتی، جس وجہ سے وہ کام چور اور سست ہو جاتے ہیں۔ ان کی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں اور نتیجتاً وہ اپنے شعبے میں ناکام تو ہوتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپنی صحت بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔

آپ نے کئی بار سنا ہو گا کہ، تمباکو نوشی اور نشہ آور مشروبات صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، لیکن ایک اور خاموش قاتل ہے جو جسمانی طور پر بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے اور وہ زیادہ بیٹھنا اور ورزش سے پرہیز کرنا ہے۔ یہ تمباکو نوشی اور بادہ خواری کی ہی طرح مضر ہے۔

امریکہ اور دنیا بھر میں لوگ، پرتعیش اشیاء دسترس میں آنے کی وجہ سے، زیادہ سے زیادہ وقت سست سرگرمیوں میں صرف کرنے لگے ہیں۔ فرصت کے اوقات میں ہم اکثر بیٹھے رہتے ہیں۔ لوگ اپنا وقت کمپیوٹر یا دیگر ڈیوائس استعمال کرتے ہوئے، ٹی وی دیکھتے ہوئے یا ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔

کمپیوٹر کے آنے سے ملازم پیشہ طبقہ بھی زیادہ سست ہو گیا ہے۔ کیوں کہ ملازمین طویل وقت ایک ڈیسک پر بیٹھے رہتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ تر لوگوں کا آفس آنے اور جانے کے لیے گاڑیوں، بسوں اور ٹرینوں میں بیٹھنا بھی شامل ہے۔

ایک اور پہلو، جو اکثر سینڈیٹری لائف سٹائل سے وابستہ ہوتا ہے وہ کھانے کی بری عادات ہیں۔ جن میں چپس، پیزا، دکان سے خریدے گئے چینی سے بنے مشروبات اور ہر طرح کے غیر صحت بخش کھانے شامل ہیں۔

آن لائین، گھر میں بیٹھے آرڈر پر چیزوں کا منگوانا بھی لوگوں کی جسمانی صحت پر اثر انداز ہو رہا ہے، کیوں کہ خود چل کر دکانوں پہ جانے کا رجحان بہت کم ہو گیا ہے۔

اس طرز کی زندگی خطرے کی گھنٹی ہے۔ جو بج رہی ہوتی ہے، مگر ہم اس پہ توجہ نہیں دیتے، جو کہ سراسر غلط ہے۔

جب آپ کا طرز زندگی، سست ہو تو آپ کم کیلوریز جلاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وزن بڑھتا چلا جاتا ہے، کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے اور آخر دل کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں اور نتیجتاً دل کے دورے پر کام تمام ہو جاتا ہے۔

زیادہ دیر بیٹھے رہنے اور جسمانی سرگرمی نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے جسم میں چربی اکٹھا ہو رہی ہوتی ہے اور شکر کی بڑھتی ہوئی زیادہ مقدار شوگر جیسی مہلک بیماری کا باعث بن جاتی ہے۔

کام نہ کرنے کی وجہ سے، آپ کا مدافعتی نظام بھی کم زور ہو جاتا ہے۔ خون کی گردش میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ آپ میں ہارمونل عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ جس سے بلڈ پریشر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اپنی صحت کی بہتری کے لیے جسمانی سر گرمیوں کو بڑھائیں۔ دفتر میں خود کو ایکٹو رکھنے کے لیے با قاعدگی سے ورزش کریں، ہلکی پھلکی جسمانی سر گرمیوں پر توجہ دیں۔

اگر آپ دفتر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو، کوشش کریں اپنی کرسی سے اٹھیں اور ایک گھنٹے میں کم از کم ایک بار گھومیں۔ جب آپ فون پر بات کر رہے ہوں تو کھڑے ہو کر بات کریں اور ساتھ ہی واک بھی کرتے جائیں۔ لفٹ کی بجائے سیڑھیاں استعمال کریں۔

امریکہ اور برطانیہ میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد پر کی جانے والے تحقیق کے دوران میں، تین لاکھ سے زیادہ مریضوں پر وزرش اور دوائیوں کے اثرات کا تقابلی جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ، ورزش جہاں دل کی بیماری کی ادویات جتنی ہی کارگر ثابت ہوئی، وہیں فالج کے مریضوں پر اس کا اثر دوا سے زیادہ ہوا۔

فی زمانہ، بہت کم بالغ افراد ضروری ورزش کرتے ہیں۔ جب کہ، ادویات کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگر آپ بہت سست طرز زندگی گزار رہے ہیں تو آپ کو اپنی صحت کی بہ تری کے لیے آہستہ آہستہ ورزش شروع کرنے کی عادت کو اپنانا چاہیے۔

پہلے ہلکی پھلکی ورزش سے شروع کریں، پھر آپ آہستہ آہستہ مزید ورزش شامل کرتے جائیں، آپ جتنا زیادہ کر سکتے ہیں، اتنا ہی آپ کے لیے بہتر ہو گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمنہ سویرا ایک کارپوریٹ بینکر اور فری لانس رائٹر ہیں۔ روزمرہ زندگی میں پیش آئے معاشرتی رویوں کے مشاہدے کو انسانیت کی کسوٹی پر پرکھ کر جو سامنے آتا ہے، لکھ ڈالتی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیزا بنائے گا روبوٹ یا انسان؟ مہنگے تجربات کے بعد مشینی پیزا کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا

’آپریشن کردیا، پھر کہا خاتون حاملہ ہی نہیں تھیں‘، کراچی کے اسپتال میں بچے کے غائب ہونے کا عجیب واقعہ

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، اہم ہدایت نامہ جاری

لداخ میں احتجاج روکنے کے لیے بھارت کی بڑی فوجی پیش قدمی، پیرا ملٹری فورسز کی 12 کمپنیاں تعینات

ملائیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف نفرت کی نئی لہر، بچوں کے اسکول بھی زد میں

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ