کوئٹہ کے کوہ مردار میں موجود آدم خور مخلوق، حقیقت یا فسانہ؟

منگل 21 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

21ویں صدی میں جہاں انسان جدت کی نئی بلندیوں کو چھوتے ہوئے چاند اور مریخ میں زندگی کے آثار تلاش کررہا ہے وہیں انسانی تاریخ و تہذیب کا ایک گہرا رشتہ لوک داستانوں، افسانوں اور بزرگوں کی سینہ بہ سینہ چلی آرہیں کہانیوں سے بھی ہے۔ ہر علاقے کی اپنی لوک داستانیں ہوتی ہیں لیکن ان سب میں ایک قدر مشترک ضرور ہوتی ہے جو ہے انسان کی جیت۔ ہر قوم اور علاقے کے رہنے والوں کے پاس اپنے اپنے واقعات ہوتے ہیں لیکن ان کا حقیقی ہونا ضروری نہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی حصے میں واقع صوبہ بلوچستان میں انسانی تہذیب کے آثار 5 سے 7 ہزار سال قدیم ہیں اور یہاں بھی لوک داستانوں کی کمی نہیں۔ ایسی ہی ایک داستان صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ سے بھی منسوب ہے۔ اکثر اوقات بزرگ مم نامی ایک شیطانی مخلوق کے قصے سناتے ہیں جن کے مطابق وہ مخلوق کوہ مردار کے تاریک غاروں میں بستی تھی اور آدم خور تھی۔

کوہ مردار

مم کے معانی

مم بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ریچھ کے ہیں۔ مم کو بیان کرتے ہوئے بزرگوں کا کہنا ہے کہ مم کا دھڑ آدھا عورت کا تھا جبکہ آدھا ریچھ یا شیر کا تھا۔ اس کے لمبے ناخن اور لمبی سی دم تھی جو 2 ٹانگوں پر چل کر اپنا شکار کرتی تھی۔

مم، مغرب اور موت

مم بچوں یا ان لوگوں کا شکار کرتی جو غروب آفتاب کے بعد پہاڑی علاقے میں قیام کرتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مم اپنی بھوک مٹانے کے لیے مقامی کھیتوں سے بکریاں اور بھیڑیں بھی پراسرار طور پر غائب کردیا کرتی تھی۔

 سنہ1900  کے اوائل میں اس بات کا وسیع پیمانے پر خیال رکھا جاتا تھا کہ شہر کے لوگ خاص طور پر نماز مغرب کی اذان کے بعد اپنے دروازے اچھی طرح بند کرلیا کریں تاکہ مم ان کے گھروں میں داخل نہ ہو۔ بچوں کو خاص طور پر اندھیرے کے بعد گھر کے اندر ہی رہنے کو کہا جاتا تھا۔

کیا یہ مجسمہ مم کا ہے؟

مم کی داستان یوں تو حقیقت کے برعکس معلوم ہوتی ہے مگر آج بھی اس داستان کی یاد کا ایک مجسمہ گورا قبرستان میں ٹوٹی پھوٹی حالت میں موجود ہے۔ تاریخ دانوں کا اس مجسمے کے متعلق کہنا ہے کہ یہ سنہ 1880 کی دہائی میں ایک عیسائی قبرستان میں ان مقتول فوجیوں کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا جنہوں نے سنہ 1880 سے سنہ 1883 کے درمیان دوسری اینگلو افغان جنگ میں حصہ لیا تھا۔ تاہم اس کے تاریخی پس منظر کے بارے میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ سنہ 1992 میں اس مجسمے کو چند افراد نے توڑ دیا تھا۔

وادی کوئٹہ

کیا مم مرگئی؟

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مم آج بھی زندہ ہے یا نہیں۔ بعض مؤرخین مم کی موت کا واقعہ کچھ یوں لکھتے ہیں کہ مم ایک شخص کو پکڑ اپنے ساتھ ایک غار میں لے گئی تھی جس کو تلاش کرتے ہوئے اس کے چند ساتھی وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے اپنے ہتھیاروں سے مم کو مار گرایا اور اپنے ساتھی کی جان بچا لی۔

مم کی داستان کو تاریخ دانوں نے بھی ایک قدیم افسانے کے طور پر اپنی کتب میں درج کیا ہوا ہے تاہم اس کے حقیقی ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں لیکن مم کا خوف کوئٹہ کے بیشتر باسیوں میں آج بھی اسی طرح موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp