پاکستان میں رواں سال کے دوران پولیو کا تیسرا کیس رپورٹ

ہفتہ 25 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں رواں سال کا تیسرا پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔

وزارت قومی صحت کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے تعلق رکھنے والے بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

وزارت قومی صحت نے بتایا کہ پولیو لیبارٹری کے مطابق بچی میں معذوری کی علامات 20 اپریل کو ظاہر ہوئیں، جبکہ بچی سے لیے گئے نمونوں میں پائے جانے والے پولیو وائرس کی جینیاتی تحقیق ابھی جاری ہے۔

وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرت نے ملک میں ایک اور پولیو کیس رپورٹ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پولیو ایک ایسا موذی مرض ہے جو نا صرف بچے بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پولیو ورکرز جب بھی آپ کی دہلیز پر آئیں تو اپنے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔

واضح رہے کہ رواں برس کا پہلا پولیو کیس بھی بلوچستان سے رپورٹ ہوا تھا۔ ’قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری نے 14 مارچ کو بتایا تھا کہ پولیو وائرس ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی سے تعلق رکھنے والے ایک 30 ماہ کے بچے میں پایا گیا ہے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟