آڈیو لیکس کیس: غیر قانونی سرویلنس جرم، قانون میں سزا موجود ہے، جسٹس بابر ستار

بدھ 29 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ غیرقانونی سرویلنس ایک جرم ہے جس کی قانون میں سزا موجود ہے۔

آڈیو لیکس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری ہے۔ جسٹس بابر ستار بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے نجم الثاقب کی درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کر رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے جواب جمع نہیں کروایا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھٹی کے باعث ہم اپنا جواب داخل نہیں کرواسکے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل روسٹرم پر آئے تو عدالت نے سوال کیا کہ بتائیں کس قانون اور سیکشن کے تحت پی ٹی اے والے سرویلینس کررہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا لیگل فریم ورک کے ذریعے کررہے ہیں۔

’وفاقی حکومت عدالت میں جھوٹ بولے گی تو بات کیسے آگے بڑھے گی‘

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دی گئی، اگر آپ اب اس مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے تو اس کے نتائج ہوں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون کہتا ہے کہ وفاقی حکومت اجازت دے سکتی ہے مگر آپ کے مطابق اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے کچھ وقت طلب کیا تو جسٹس بابر ستار نے کہا آپ کو نہیں پتہ تھا کہ آج کیس لگا ہوا ہے، ایک سال سے یہ پٹیشنز زیرسماعت ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر وفاقی حکومت عدالت میں جھوٹ بولے گی تو بات کیسے آگے بڑھے گی، وزیراعظم آفس سمیت دیگر اداروں کی جانب سے رپورٹس جمع کرائی جا چکی ہیں، رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو لیگل انٹرسیپشن کی اجازت نہیں دی گئی۔

’لوگوں کی کالز ریکارڈ کرنے کی اجازت کس نے دی؟‘

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ جواب پٹیشنر کی آڈیو لیکس کی حد تک تھا، جس پر عدالت نے کہا کہ جو بھی ہے آپ بتائیں شہریوں کی کالز کس قانون کے تحت آپ ریکارڈ کررہے ہیں۔

عدالت نے سوال کیا کہ زبانی کلامی نہ بتائیں باضابطہ طور پر بتائیں کہ آپ نے کس کو اجازت دے رکھی ہے، کس نے اتھارٹی دی ہوئی ہے کہ لوگوں کی کالز ریکارڈ کی جائیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم آفس، وزارت دفاع، داخلہ اور پی  ٹی اے کہہ چکے ہیں کسی کو اجازت نہیں ہے۔ جسٹس بابر ستار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ٹیلی گراف ایکٹ کی متعلقہ سیکشنز پڑھنے کی ہدایت کی اور ریمارکس دیے کہ غیرقانونی سرویلنس ایک جرم جس کی قانون میں سزا موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں