معروف شاعر احمد فرہاد کے ریمانڈ میں 10 جون تک توسیع

پیر 3 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مظفرآباد کی عدالت نے معروف کشمیری شاعر احمد فرہاد کے جسمانی ریمانڈ میں 10 جون تک توسیع کردی۔

پولیس نے آج ریمانڈ ختم ہونے پر احمد فرہاد کو سیشن کورٹ میں پیش کیا اور مزید ریمانڈ کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی۔

احمد فرہاد کی پیشی کے موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت کے باہر موجود تھی جنہوں نے ان کے حق میں نعرے بازی کی اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

احمد فرہاد نے کمرہ عدالت کے باہر چاہنے والوں سے شاعرانہ انداز میں جذباتی مکالمہ کیا اور یہ شعر پڑا۔

’‎اور کیا چاہیے اے ارض وطن تیرے لیے

‎طوق بھی چوم لیا دار بھی دیکھ آئے‘

اس کے بعد پولیس احمد فرہاد کو ایک پرائویٹ کار میں لے کر روانہ ہوگئی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے شاعر احمد فرہاد کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا تھا جب وفاقی حکومت کے وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کے ایک تھانے میں زیر حراست ہیں۔

احمد فرہاد کی گرفتاری پہلے دھیرکوٹ تھانے میں ظاہر کی گئی، پھر مظفرآباد میں مقدمے کے اندراج کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا اور اسی کیس میں وہ اس وقت ریمانڈ پر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، اہم قومی و علاقائی امور زیر بحث

پیپلز پارٹی پر سودے بازی کے الزامات بے بنیاد، بجٹ بغیر آئینی ترمیم کے منظور ہوگا، عبدالقادر پٹیل

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت

سعودی عرب میں نایاب ریم غزال کی جنگلی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا بھر میں تسلیم، مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، رانا قاسم نون

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ