بحیرہ روم : تیونس کے قریب کشتی حادثے میں 19 افراد ہلاک

اتوار 26 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تیونس کے قریب تارکین وطن سے بھری کشتی کے حادثے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بدقسمت کشتی تیونس سے بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی جانے کی کوشش میں جان لیوا حادثہ کا شکار ہوئی۔

انسانی اسمگلنگ کی غرض سے اٹلی کی طرف جانے والی کشتیوں میں نمایاں اضافے کے بعد گزشتہ چار دنوں میں تارکین وطن کی پانچ کشتیاں تیونس کے جنوبی ساحلی شہر صفاقس کے قریب بحیرہ روم میں ڈوب چکی ہیں۔

ان پانچ حادثات میں مجموعی طور پر 67 افراد لاپتا جب کہ 9 ہلاکتوں کی تصدیق کی جاچکی ہے۔

فورم فار سوشل اینڈ اکنامک رائٹس (ایف ٹی ڈی ای ایس) کے ایک اہلکار رمضان بن عمر کے مطابق تیونس کے ساحلی محافظوں نے صفاقس کے ساحلوں سے شروع ہونے والے سفر کے بعد مہدیہ کے ساحل سے کشتی سے پانچ افراد کو بچایا۔

تیونس کی کوسٹ گارڈ فورس کے مطابق اس نے گزشتہ چار دنوں میں اٹلی جانے والی تقریباً 80 کشتیوں کو روک کر 3 ہزار سے زائد تارکین وطن کو حراست میں لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے بیشتر افراد کا تعلق سب صحارا افریقی ممالک سے ہے۔

اہم بندرگاہ کا حامل صفاقس کا ساحل یورپ میں بہتر زندگی کی امید میں افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں غربت اور تنازعات سے فرار کے خواہش مند افراد کی انسانی اسمگلنگ کا ایک بڑا مقام بنتا جارہا ہے۔

تیونس کے کوسٹ گارڈز 24 دسمبر 2020 کو وسطی تیونس کی بندرگاہ صفاقس میں تارکین وطن کی ڈھکی ہوئی لاشوں کے پاس کھڑے ہیں۔ فائل فوٹو/فرانس 24

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال اٹلی پہنچنے والے کم از کم 12 ہزار تارکین وطن تیونس سے عازم سفر ہوئے تھے جو ایک قابل ذکر تعداد ہے کیوں کہ 2022 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 1,300 تھی۔

اس سے قبل اطالوی کوسٹ گارڈ نے بھی جنوبی اطالوی ساحل کے قریب دو کارروائیوں میں تقریباً 750 تارکین وطن کو بچانے کا دعوٰی کیا تھا۔

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے مطابق اگر تیونس میں مالی استحکام کو محفوظ نہ رکھا گیا تو یورپ کو شمالی افریقہ سے تارکین وطن کی ایک بڑی لہر کی غیر قانونی طریقہ سے اپنے ساحلوں پر آمد کا خطرہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟