وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اپنی چوریاں ڈاکے تسلیم کرے، قوم سے معافی مانگے، پھر بات ہوگی۔ جو آئین، قانون اور عدلیہ کو نہ مانے، اس سے بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترازو کا جھکاؤ ایک طرف ہے، عمران خان کو دن رات ضمانتیں مل رہی ہیں۔ جو آئین اور قانون کو نہیں مانتا، اس کی پذیرائی ہورہی ہے۔ لاڈلے کو پاکستان سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، قانون بہر حال اپنا راستہ بنائے گا، بہت ہوگیا، پلوں سے بہت پانی بہہ گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین نے اداروں کے درمیان پاور کی تقسیم کی، اس نے ریڈلائن لگادی کہ اس لائن کو کوئی عبور نہیں کرسکے گا مگر تاریخ کے واقعات ہم سب کے سامنے ہیں، آج آئین کا سنگین مذاق اڑایا جارہا ہے، آئین میں موجودہ مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات کی قانون نافذ کرنے والے ادارے قانونی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے جائیں ان پر پیٹرول بم پھینکے جائیں، ان کی گاڑیوں کو آگ لگادی جائے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو، ضمانتوں پر ضمانتیں ملیں، یہ تو جنگل کا قانون ہے یہ آئین کو دفن کرنے کی مذموم سازش ہے۔دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔
وزیراعظم کہا ہے پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تمام شرائط مکمل کردی ہیں اور اب ہمیں دوست ممالک سے وعدوں کو پورا کرانے کا کہا جارہا ہے۔ عمران نیازی کے 4 سالہ دور میں پاکستان کا قرض 70 فیصد بڑھ گیا، ایک نئی اینٹ نہیں لگائی البتہ اکھاڑی ضرور گئیں، کروڑوں نوکریوں اور مکانات کا وعدہ کیا گیا لیکن کرپشن، مہنگائی کے انبار لگا دیے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کی اور پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا بڑی مشکل سے اس مخلوط حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے بچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کے ساتھ پوری طرح رابطے میں ہیں لیکن جو وعدوں کی خلاف ورزیاں ہوئیں آج آئی ایم ایف ہم سے قدم قدم پر ضمانتیں لینا چاہتا ہے جو دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی کوششوں کی بدولت آئی ایم ایف کی تمام شرائط مکمل کردی گئی ہیں لیکن اب ہمیں یہ کہا جارہا ہے دوست ممالک سے جو وعدے ہیں انہیں پورا کیا جائے اسے بھی ہم پورا کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ لاڈلے نے پوری دنیا میں پاکستان کا تشخص مجروح کیا۔ وہ آج کس منہ سے غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔ عمران نیازی سے بڑا ڈرامے باز آج تک نہیں دیکھا۔کئی ماہ یہ شخص یہ جھوٹ پوری قوم کے آگے بولتا رہا اور ایک طبقہ یہ سمجھنا شروع ہوگیا کہ واقعی یہ امریکا کی سازش ہے اور یہ حکومت آج اسی عمران نیازی نے لاکھوں ڈالر سے لابنگ کمپنیز ہائر کرلی ہیں جن کے ذریعے پاکستان کے خلاف کیا کیا ناٹک رچایا جارہا ہے، وہاں کچھ لوگوں کو تیار کر کے بیانات دلوائے جارہے ہیں۔ امپورٹڈ حکومت ہے لیکن چند ہفتے قبل قلابازی کھائی اور کہا کہ امریکا کی سازش نہیں تھی اپنوں کی سازش تھی۔
انہوں نے کہا یہ وہی شخص تھا جو کہتا کہ اپوزیشن والے چور ڈاکو ہیں انہیں سفارتکاروں سے ملنے کا کوئی حق نہیں آج دن رات میٹنگز ہورہی ہیں، کس منہ سے یہ شخص دن رات یہ باتیں کرتا ہے جس کی تردید بھی خود کرتا ہے۔ خارجہ محاذ پر جو تباہی عمران نیازی نے مچائی ، وہ ناقابل بیان ہے۔ لاڈلا ایک غیر سنجیدہ انسان تھا جس نے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی گھڑیاں بیچتا رہا اور اس کی بیگم ہیرے جواہرات بیچتی رہی۔ عمران خان اپنی چوریاں ڈاکے تسلیم کرے ، قوم سے معافی مانگے ، پھر بات ہوگی۔ جو آئین ، قانون اور عدلیہ کو نہ مانے ، اس سے بات نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ لاڈلے نے قوم کے اندر تقسیم در تقسیم کی بنیاد ڈال دی۔ وہ 1973کے دستور کو دفن کرنے کی سازش کررہا ہے۔ انیس سو تہتر کے آئین ہی نے ملک کو قائم و دائم رکھا ہوا ہے۔ ماضی میں لوگوں کو پکڑ کر پی ٹی آئی کے دوپٹے پہنائے گئے۔ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو کس طرح اپوزیشن اراکین اور ان کے خاندان کی وچ ہنٹنگ کی گئی، جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور انہیں جیلوں میں ڈالا گیا، کسی نے نوٹس نہیں لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے لسبیلہ شہدا کے خلاف مہم چلائی۔ پاکستان کے لیے خون کا نذرانہ کرنے والے شہدا کے لیے بھیانک گفتگو کی گئی۔ اسی ہزار پاکستانیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کیں۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے سوات میں دہشت گردوں کا بسایا؟ دہشت گرد اچھا برا نہیں ، صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ کیا دہشت گردوں کی واپسی کا مقصد ایک پارٹی کو فائدہ دلوانا تھا؟ دہشت گردوں کو واپس لانے کے کیا مقاصد تھے؟ تحقیق ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک لاڈلہ تحکمانہ انداز میں بات کرتا ہے اور آئین و قانون کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتا ہے لیکن کسی نے نوٹس نہیں لیا، یہ وہی لاڈلا ہے جس نے اسی پارلیمنٹ پر دھاوا بولا تھا جس کے حواریوں نے گندے کپڑے سپریم کورٹ پر لٹکائے، قبریں کھودیں اور ایوان کو گالیاں دی تھیں لیکن اس کے باوجود تنخواہ جیب میں ڈالتا رہا۔ عمران خان نے دو چیف جسٹس صاحبان کی توہین کی لیکن کچھ نہیں ہوا۔عمران خان جتھوں کے ساتھ عدلیہ کو بلیک میل کرتا ہے۔ ثاقب نثار نے بنی گالہ کے غیرقانونی گھر کو ریگولرائز کردیا۔
انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کا مقابلہ فاشزم سے ہے۔آئیں ! آج وہ فیصلہ کرکے جائیں کہ تاریخ ہمیں یاد رکھے۔ انہوں نے کہا کہ جو آئین اور قانون کو نہیں مانتا ، اس کی پذیرائی ہورہی ہے۔ عمران خان کو دن رات ضمانتیں مل رہی ہیں۔ ترازو کا جھکائو ایک طرف ہے۔ ایک لاڈلا کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتا، جتنے اسے حاضری کے نوٹس ملتے ہیں اس پر مختلف عدالتوں سے توسیع حاصل کرلی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں درس دینے والے اپنے فیصلے بھی اپنی کابینہ سے کروائیں۔ گزشتہ روز جو فیصلہ آیا ، وہ تین کے مقابے میں چارسے آیا۔ انہوں نے پوچھا کہ ایک لاڈلے کو ریلیف دینا ہے یا کروڑوں لوگوں کو؟ ججز کے نام گلی محلے کے بچوں کی زبان پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل کے فیصلے کے بعد عدلیہ کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، اب پارلیمان میں قانون سازی کرنا ہوگی۔ ہم نے قانون سازی نہ کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس لاڈلے کو پاکستان سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، قانون بہر حال اپنا راستہ بنائے گا، بہت ہوگیا، پلوں سے بہت پانی بہہ گیا۔














