10 لاکھ نرسوں کی کمی سے دوچار پاکستان نرسیں کیسے امریکا بھیجے گا؟

منگل 9 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں جہاں تعداد کے اعتبار سے اسپتال عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں وہیں صحت کے ان مراکز میں پیرا میڈیکل اسٹاف خصوصاً نرسیں بھی ضرورت سے بہت کم ہیں۔

ملک بھر کے اسپتالوں کو اس وقت 10 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث مریضوں کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جو کسی اسپتال میں ایک مریض کی دیکھ بھال کے لیے درکار ہوتی ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کو اپنے ملک کے اسپتالوں میں اسٹاف کی کمی دور کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے امریکا جیسے ترقی یافتہ اور وسائل سے مالا مال ممالک میں نرسنگ اسٹاف میں کمی کی فکر ہے جس کے لیے وہ پاکستانیوں کو بیرون ملک بھجوانے پر کمر بستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہر سال ہزاروں نرسیں برطانیہ چھوڑ کر بیرون ملک مقیم ہونے پر مجبور کیوں؟

جہاں تک پاکستان میں نرسنگ اسٹاف کی تعداد کی صورتحال ہے اس حوالے سے پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کو بتایا گیا کہ ملک میں تقریباً 10 لاکھ نرسوں کی کمی ہے۔

سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں وزارت قومی صحت کی خدمات کی تشکیل، کام کاج اور آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

سیکریٹری این ایچ ایس آر سی نے پاکستان میں 10 لاکھ نرسوں کی کمی کا انکشاف کیا۔ اجلاس میں ان چیلنجوں اور افرادی قوت کی کمی کے مسائل کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال تک رسائی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے کاموں کو بہتر بنانے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: عید کی چھٹیوں کے دوران پشاور کے اسپتالوں میں غیر معمولی رش، وجہ کیا ہے؟

اجلاس میں سینیٹرز پلوشہ محمد زئی خان، عبدالقدوس، سید مسرور احسن، لیاقت خان تراکئی، محمد ہمایوں مہمند، راحت جمالی، محمد عبدالقادر، سیکریٹری وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن، صدر پاکستان میڈیکل اور دیگر نے شرکت کی۔

’تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو‘

ایک طرف تو پاکستان کو خود ہی 10 لاکھ نرسوں کی کمی کا سامنا لیکن دوسری جانب حکومت ترقی یافتہ مملک میں نرسنگ اسٹاف کی کمی پر ’پریشان‘ دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق امریکا سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایک وفد سے ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیو یارک کے اسپتالوں اور طبی شعبے میں کوالیفائیڈ نرسوں کی کمی کا ’نوٹس‘ لیتے ہوئے فوری طور پر پاکستان سے نرسیں امریکا بھجوانے کا فیصلہ کرلیا۔

میڈیا کو ملاقات کی تفصیل وزارت داخلہ کی جانب سے ایک پریس رلیز کی صورت میں بھجوائی گئی جس میں بتایا گیا کہ امریکی وفد سے ایک معاہدہ بھی طے پایا ہے جس کے تحت پاکستانی نرسز کو نیو یارک بھیجا جائے گا اور اس سے قبل پاکستان ضروری پراسس مکمل کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے: نواز شریف کینسر اسپتال کی تعمیر کا آغاز، 46 ارب روپے کے منصوبے میں عالمی معیار کی سہولیات ہوں گی، بریفنگ

وزیر داخلہ نے مستحکم عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوالیفائڈ نرسز نیویارک بھجوانے کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

بیان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکا میں کورونا کے دنوں سے چلے آرہے طبی مسائل کا بھی نوٹس لیا جہاں اس عالمی وبا کی وجہ سے اسپتالوں کی ورک فورس بھی بہت زیادہ متاثر ہو گئی تھی اور اسی سبب نیویارک میں نرسوں کی شدید کمی ہو گئی ہے جو سنہ 2030 تک 40 ہزار تک جا سکتی ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان پیشہ ورانہ نرسنگ کے حوالے سے کافی مشہور ہے۔ پاکستان سے برطانیہ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں میں پہلے ہی کافی بڑی تعداد میں نرسیں جا کر خدمات انجام دے رہی ہیں اور اب امریکا کو بھی نرسیں فراہم کی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو سخت پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار