پاکستان نے اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسلام آباد کے قریب دریائے سواں کے کنارے واقع گکھڑ دور سے وابستہ 4 قدیم تاریخی مقامات کو سیاحوں کے لیے کھول دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: بدھ مت کے تاریخی آثار، شاہ اللہ دتہ غاروں کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے کی تیاری
وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے ان تاریخی مقامات کا افتتاح کیا جن میں تقریباً 450 سال پرانی مائی قمرو مسجد، 350 سال پرانا سلطان مقرب خان کا مقبرہ، تقریباً ایک ہزار سال پرانا پھروالا مقبرہ اور راوت قلعہ شامل ہیں۔
ان تاریخی مقامات کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا جاچکا ہے جو ان کے عالمی سطح پر اعتراف اور تحفظ کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔
5 کروڑ 40 لاکھ روپے سے بحالی کا کام
وزارت قومی ورثہ و ثقافت کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر نے ان مقامات کو یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل کرانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔
تاریخی مقامات کی بحالی اور تحفظ کے لیے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ روپے کا منصوبہ منظور کیا گیا جبکہ بحالی کا کام سنہ 2022 میں شروع کیا گیا تھا اور تقریباً 3 سال تک جاری رہا۔
افتتاحی تقریب کے موقعے پر حکام نے بتایا کہ طویل عرصے سے نظر انداز کیے جانے والے ان مقامات کو مرمت، تحفظ اور تزئین و آرائش کے بعد سیاحوں کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔
حکومت تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، وزیر
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ حکومت پاکستان تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ان مقامات کو ملکی و غیر ملکی سیاحوں، محققین اور ماہرین کے لیے اہم سیاحتی مراکز بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیے: کیا شاہ اللہ دتہ کے غار قدرتی نہیں؟
انہوں نے کہا کہ انہیں یہ جان کر حیرت اور خوشی ہوئی کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں اتنا شاندار تاریخی اور ثقافتی ورثہ موجود ہے کیونکہ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ دارالحکومت کی تاریخ سنہ 1960 کی دہائی کے بعد شروع ہوئی۔
وزیر نے تاریخی مقامات پر جاری بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامات کے تحفظ کے لیے نگرانی کے کیمرے نصب کیے گئے، سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے گئے جبکہ باغبانی اور دیگر سہولیات کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
48 کنال اراضی واگزار کرا کے باغ بنا دیا گیا
وفاقی وزیر کے مطابق جب بحالی کا کام شروع کیا گیا تو یہ علاقے انتہائی خراب حالت میں تھے جہاں رسائی کے مسائل تھے اور بڑی تعداد میں جھاڑیاں موجود تھیں۔
محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر نے زمین کی حد بندی مکمل کرکے تقریباً 48 کنال اراضی واگزار کرائی، جس پر بعد ازاں باڑ لگائی گئی، باغ بنایا گیا اور سیاحوں کے لیے بیٹھنے سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔
Honourable Federal Minister for National Heritage and Culture Division , Mr. Aurangzeb Khan Khichi, inaugurated the historical Mai Qamro Mosque and the Tomb of Sultan Muqarab Khan at Bagh Jogian Islamabad, enlisted on tentative list of world Heritage Sites UNESCO. pic.twitter.com/u0t70HLRtp
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) August 24, 2026
گکھڑ قوم کی تاریخ
انہوں نے بتایا کہ مائی قمرو سے منسلک ایک تاریخی مقبرہ تقریباً منہدم ہونے کے قریب تھا جسے خصوصی تحفظ کے اقدامات کے ذریعے اصل ساخت برقرار رکھتے ہوئے بحال کیا گیا۔ گکھڑ قبیلے سے وابستہ بعض تاریخی قبروں کی بھی دستیاب وسائل کے مطابق مرمت کی گئی۔
سیاحوں کے لیے سڑک بہتر بنانے کا منصوبہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان تاریخی مقامات تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ مقامی افراد اور سیاحوں کے لیے تقریباً 2 کلومیٹر طویل سڑک موجود ہے، تاہم اس کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل ہونے کے بعد متعلقہ اداروں سے درخواست کی جائے گی کہ اس راستے کو بہتر اور پختہ سڑک میں تبدیل کیا جائے، تاکہ ملکی و غیر ملکی سیاح آسانی سے یہاں پہنچ سکیں۔
یونیسکو فہرست میں شمولیت اہم کامیابی قرار
اورنگزیب خان کھچی نے ان مقامات کا یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل ہونا پاکستان کی جانب سے ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام گکھڑ قوم کی تاریخ، قربانیوں اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ امید ہے کہ یونیسکو کی باقی شرائط مکمل ہونے کے بعد یہ مقامات عالمی ثقافتی ورثے کا مستقل درجہ حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پھروالا قلعے کے لیے بھی ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جسے فنڈز مختص ہونے کے بعد منظور کیا جائے گا۔
پوٹھوہار کے گکھڑ، جنگجوؤں اور حکمرانوں کی تاریخ
وفاقی وزیر نے کہا کہ پوٹھوہار کے گکھڑ اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور شناخت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے اسلام آباد کے لیے کون کون سے منصوبوں کی منظوری دی؟
تاریخی طور پر گکھڑ قبیلہ برصغیر کے اہم جنگجو قبائل میں شمار ہوتا ہے جس نے تقریباً 11ویں صدی سے سنہ 1818 تک دریائے سندھ اور جہلم کے درمیان واقع پوٹھوہار کے وسیع علاقے میں اثر و رسوخ قائم رکھا۔
گکھڑوں کا مرکز پھروالا قلعہ رہا جہاں سے انہوں نے موجودہ اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور گجرات کے علاقوں تک حکمرانی کی۔
مغل دور میں گکھڑ کبھی مغل حکمرانوں کے مخالف اور کبھی اتحادی رہے۔ سنہ 1519 میں ظہیر الدین بابر نے پھروالا قلعہ پر قبضہ کیا، تاہم بعد کے ادوار میں گکھڑوں نے بعض مغل حکمرانوں کا ساتھ بھی دیا۔
18ویں صدی میں سلطان مقرب خان کے دور میں گکھڑ طاقت کے عروج پر پہنچے تاہم بعد میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں سکھ سلطنت کے پھیلاؤ کے باعث ان کا سیاسی اثر کم ہوگیا اور سنہ 1818 میں پھروالا قلعہ سکھوں کے قبضے میں چلا گیا۔
آج بھی گکھڑوں کی تاریخ ان کے قلعوں، مساجد اور مقبروں کی صورت میں موجود ہے جو پوٹھوہار کے قدیم ورثے اور ثقافتی شناخت کی علامت ہیں۔
ثقافتی سیاحت کے نئے دور کا آغاز
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان تاریخی ورثے کے تحفظ، یونیسکو کی باقی شرائط مکمل کرنے اور پوٹھوہار خطے کو تاریخ، آثار قدیمہ اور ثقافتی سیاحت کے اہم مرکز کے طور پر متعارف کرانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس تاریخی خزانوں کی کمی نہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ دنیا ان مقامات کو دریافت کرے اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد کے سبز اثاثوں اور مارگلہ ہلز کو محفوظ کرنے کا تاریخی فیصلہ کرلیا گیا
چاروں تاریخی مقامات عوام کے لیے کھولے جانے کے بعد پاکستان میں ثقافتی سیاحت کے فروغ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے۔














