امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس دو راستے ہیں، یا تو وہ معاشی تنہائی کا سامنا کرے یا عالمی معیشت کا حصہ بننے کا راستہ اختیار کرے۔
پریس کانفرنس میں اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیاکہ امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب کی آمدنی کے اہم ذرائع کی نشاندہی کرلی ہے اور واشنگٹن ان ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایرانی حکومت پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی حکام نے پابندیوں کے پانچ اہم شعبوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور جہاز رانی شامل ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ جو ممالک یا ادارے ایرانی حکومت کی معاونت جاری رکھیں گے، وہ بھی امریکی کارروائی کی زد میں آسکتے ہیں۔ ان کے بقول ایسے عناصر ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہوں گے۔
’چین سمیت کسی کو ثانوی پابندیوں سے استثنیٰ نہیں‘
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا ایران کے سب سے اہم تجارتی شراکت دار چین کو بھی ممکنہ ثانوی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکی ثانوی پابندیوں سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ایران کے خلاف امریکی مہم اس وقت تک جاری رکھی جائے گی جب تک ایرانی حکومت کو عالمی سطح پر مکمل طور پر تنہا نہیں کردیا جاتا۔ ان کے مطابق نئی اقتصادی حکمت عملی کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا اور اسے عالمی اقتصادی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنا ہے۔
سکاٹ بیسنٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو ان سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب صرف ایرانی خطرے سے نمٹنے کی کوشش نہیں کررہا بلکہ اس خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ایران کی مالی معاونت کے ذرائع ختم کرنے کا اعلان
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی مہم کا مقصد ایرانی حکومت کو سہارا دینے والے تمام مالی اور معاشی ذرائع کو ختم کرنا ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن ایرانی حکومت کو برقرار رکھنے والے تمام مالی راستوں کو بند کرنے کی کوشش کررہا ہے اور یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران پر اقتصادی دباؤ کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوجاتے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا نے مختلف کمپنیوں اور اداروں کو ایران کے ساتھ اقتصادی روابط ختم کرنے کے لیے ایک مخصوص مہلت بھی دی ہے۔ اس مدت کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے والے اداروں کو امریکی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیسرے ممالک سے بھی رابطے کیے جارہے ہیں۔ وزارت خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی مشترکہ ٹیمیں دنیا بھر کی حکومتوں سے رابطے کرکے ایران سے متعلق ان سرگرمیوں کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہیں جنہیں واشنگٹن نے نشاندہی کے بعد ہدف بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکومتوں اور اداروں کے لیے مخصوص ڈیڈ لائنز مقرر کی جارہی ہیں، جبکہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں امریکی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی محدود یا مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے۔
’ہم ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہے ہیں‘، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی پالیسی اور موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ڈیموکریٹس ریپبلکن ووٹرز کے حوصلے پست کرنے کے لیے جعلی سروے جاری کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہا پسند بائیں بازو کے ڈیموکریٹس جعلی پولز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کا مقصد ریپبلکن ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے ان کے حوصلے کم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران سے مذاکرات میں جنگی نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حقیقی سروے ان کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور ملک میں جوش و جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
ایران کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سمیت سب کے خلاف کامیابی حاصل کررہا ہے، جبکہ ایران اقتصادی اور عسکری دونوں اعتبار سے زوال کے بھنور میں پھنسا ہوا ہے۔














