غیر ملکی ڈاکٹروں اور نرسوں کو ویزا دینے والے 7 یورپی ممالک کون ہیں؟

بدھ 10 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپین نیٹ ورک آف ایمپلائمنٹ سروسز کی ’قلت اور بہتات‘ سے متعلق حالیہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے کئی ممالک صحت عامہ سے متعلق پیشوں میں ماہرین کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ماہر ڈاکٹر اور تربیت یافتہ نرس سرفہرست ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین میں شامل ریاستیں غیر ملکی ماہر پیشہ ور افراد کے لیے ملازمت کے ویزے کے لیے ہموار طریقہ کار کی پیشکش کرتے ہوئے انسانی وسائل کے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، صحت عامہ کے شعبوں میں ماہرین کی قلت سے دوچار ممالک میں سوئٹزرلینڈ، جرمنی، ناروے، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، آسٹریا اور ڈنمارک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی میں بڑی تعداد میں ملازمین کی ضرورت، کوالیفکیشن کیا ہو؟ تنخواہ کتنی ملے گی؟

رپورٹ کے مطابق آئرلینڈ اور سوئٹزرلینڈ خاص طور پر غیر ملکی ڈاکٹروں اور نرسوں دونوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں جبکہ آئرلینڈ، ناروے اور سوئٹزرلینڈ غیر ملکی تربیت یافتہ ڈاکٹروں پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں، اور آئرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، اور آسٹریا غیر ملکی تربیت یافتہ نرسوں پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

یورپی یونین میں شامل ان ممالک میں صحت عامہ کی دیکھ بھال کے حوالے سے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز یعنی ماہر طبی عملہ، جینرلسٹ ڈاکٹرز یعنی عمومی طبی عملہ، پیشہ ور نرسنگ عملہ، صحت کی دیکھ بھال کے معاونین سمیت مڈوائفری پروفیشنل، فزیوتھراپسٹ، دندان ساز، فارماسسٹ، آڈیولوجسٹ اور اسپیچ تھراپسٹ کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔

مزید پڑھیں: گھر بیٹھے امریکی کمپنیوں سے سالانہ ایک لاکھ ڈالر تنخواہ چاہیے، تو پھر دیر کس بات کی؟

بوڑھی ہوتی ہوئی ہوئی آبادی کی وجہ سے اس نوعیت کی افرادی قوت میں کمی میں اضافہ ہو رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان شعبوں میں غیر ملکی پیشہ ور افراد کے پاس ان ممالک میں ملازمت اور ورک ویزا حاصل کرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔

جرمنی صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں دستیاب ماہر افرادی قوت میں مسلسل کمی کی اطلاع دیتا رہا ہے، وفاقی شماریاتی دفتر کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2023 میں جرمنی میں 12 فیصد ڈاکٹرز یعنی تقریباً 62,000 غیر ملکی شہری تھے، جو ایک دہائی قبل کے اعدادوشمار کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: ہنرمند پاکستانی اسکاٹ لینڈ میں نوکری کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

مجموعی طور پر، 115,000 غیر ملکی ڈاکٹرز نے جرمنی میں سکونت اختیار کی ہے، جہاں یہ ان کا پیشہ 2022 میں دوسری سب سے زیادہ تسلیم شدہ غیر ملکی قابلیت شمار کیا گیا ہے.

شینگن ڈاٹ نیوز کے مطابق، جرمنی کو نرسوں کی بھی شدید عدم دستیابی کا سامنا ہے اور اسے 2025 تک مزید 150,000 نرسوں کی ضرورت ہوگی، جرمن حکام لاطینی امریکا سمیت بیرونی ممالک سے نرسنگ اسٹاف کو فعال طور پر تلاش کر رہے ہیں۔.

مزید برآں، جرمنی اور ڈنمارک سمیت یورپی یونین کے بعض ممالک نے حال ہی میں امیگریشن قوانین میں نرمی کی ہے، جس سے غیر ملکی کارکنوں کے ورک ویزا حاصل کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp