لوگ انصاف کے لیے ہماری طرف دیکھتے ہیں، کبھی کوئی فیصلہ غصے میں نہیں دیا، جسٹس عامر فاروق

جمعرات 11 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ چیمبرانسٹیٹیوشنل کا نظریہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان وکلا کو بہتر گائیڈ کرنے کی ضرورت ہے، لوگ انصاف کے لیے ہماری طرف دیکھتے ہیں اس لیے کبھی کوئی فیصلہ غصے میں نہیں دیا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکلا کو پیشہ ورانہ اخلاقیات سیکھنے کی ضرورت ہے، پہلے جب وکیل عدالتوں میں آتا تھا تو 6 ماہ ایک سینیئر وکیل کے ساتھ گزار کر اور کچھ سیکھ کر آتا تھا۔ آج ایسا نہیں ہورہا، آج ہمیں پیسہ کمانے کے ساتھ ساتھ اپنے عزت نفس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کمال کردیا

انہوں نے کہا کہ وکیل چیمبر میں صرف وکالت نہیں بلکہ بہت سی چیزیں سیکھتا تھا، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ڈاکٹرز اور انجینیئرز کی طرح وکیل بھی اس شعبے میں پیسہ کمانے کے لیے آتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مقصد قطعاً نہیں ہے کہ پیسہ کمانے کے چکر میں وکلا اپنی پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بھول جائیں، جب پیسہ کمانا ہے تو پیشہ ورانہ اخلاقیات اور عدالتی قوائد اور ضوابط کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔

مزید پڑھیں: سائفر کیس: اعظم خان ملزم تھا، پھر گواہ بن گیا، اس کے بیان کی کیا وقعت ہو گی، جسٹس عامر فاروق کا اہم سوال

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 15 سالوں میں انسٹیٹیوشن آف چیمبر ختم ہو گیا، اس کے خاتمے کے مجھ سمیت سب ذمہ دار ہیں۔ جب چیمبرانسٹیٹیوشنل کا نظریہ ختم ہورہا ہے تو وکلا کے پیشہ ورانہ اخلاقیات سے متعلق بہت سے معاملات بھی سامنے آ رہے ہیں۔  بارکونسلز کواس انسٹیٹیوشنل چیمبر کے نظریے اور کردار کو بحال کرنے کے لیے آگے آنا ہوگا۔

انہوں نے کہا بہت سے نئے آنے والے وکلا عدالتی اخلاقیات نہیں سمجھتے، ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں، ہم سب پیشہ ور لوگ ہیں اور ہمارے پیشہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریاں اپنے پیشہ کے مطابق ہی ادا کریں۔ ہم نے اپنے شعبہ میں پروفیشنل اقدارکواپنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروفیشنل گرومنگ کے لیے کبھی کبھارمیں غصہ بھی کرتا ہوں لیکن کوئی جج کسی ذاتی مسئلے پر کسی کو کچھ نہیں کہتا، ہمارا مقصد دوسروں کی اصلاح کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: سائفر کیس: ہاتھی آپ نکال چکے، دم بھی نکال دیں، چیف جسٹس عامر فاروق کا وکیل پی ٹی آئی سے مکالمہ

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بارایسوسی ایشنز کا مقصد محض بیٹھ کر چائے پینا اور گپ شپ کرنا ہی نہیں بلکہ ان کا کام وکلا کی گرومنگ کرنا ہے۔ لوگ ہماری طرف دیکھتے ہیں، ہم نے لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے اور ایسا تبھی ہو گا جب ہم اپنی اخلاقیات اور پیشے سے انصاف کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

‎پمز آتشزدگی: نومولود بچوں کو بچانے کے لیے کیا فائر سیفٹی پروٹوکول ہونا چاہیے تھا؟

سانحہ پمز کی تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، مریم نواز کا غمزدہ والدین سے اظہار رنج و غم

طلال چوہدری کا پمز اسپتال کا دورہ: واقعے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیر مملکت داخلہ

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کا پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس

اسلم غوری سیکریٹری صحت کے عہدے سے فارغ، محمد محمود کو اضافی چارج مل گیا

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار