‎پمز آتشزدگی: نومولود بچوں کو بچانے کے لیے کیا فائر سیفٹی پروٹوکول ہونا چاہیے تھا؟

بدھ 26 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نومولود بچوں کی نرسری میں لگنے والی آگ نے نہ صرف 14 بچوں کی جان لے لی بلکہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے موجودہ انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بدھ کی صبح پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں آگ بھڑکی۔ حکام کے مطابق فائر ایمرجنسی کی اطلاع قریباً 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی اور ریسکیو و فائر بریگیڈ کی ٹیمیں چند منٹ میں موقع پر پہنچ گئیں۔

مزید پڑھیں: پمز اسپتال میں جان لیوا آگ کیسے لگی؟ سی ڈی اے رپورٹ سامنے آگئی

6 فائر ٹینڈرز اور 4 ایمبولینسز نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔ سرکاری طور پر 14 نومولود بچوں کی موت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ ایک بچے کو زندہ بچایا گیا۔

یاد رہے کہ ابتدائی اطلاعات میں آگ کی وجہ ایئرکنڈیشننگ یونٹ کے کمپریسر میں خرابی یا دھماکا بتائی گئی ہے، تاہم واقعے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔

اسلام آباد انتظامیہ نے 8 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی ہے جسے آگ لگنے کی اصل وجہ، فائر سیفٹی انتظامات کی موجودگی اور فعالیت، ریسکیو کارروائی کے وقت اور اس کی مؤثریت کا جائزہ لے کر 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

‎سوال صرف آگ لگنے کا نہیں، آگ کے بعد کے پروٹوکول کا بھی ہے

سیفٹی پروٹوکولز کے مطابق اسپتال میں آگ لگنے کی صورت میں عام عمارت کی طرح تمام مریضوں کو فوراً عمارت سے باہر نکالنا ہمیشہ پہلا قدم نہیں ہوتا، کیونکہ بہت سے مریض خود چلنے کی حالت میں نہیں ہوتے اور انہیں آکسیجن، وینٹی لیٹر، انکیوبیٹر یا دیگر طبی آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔

بین الاقوامی اسپتال فائر سیفٹی اصولوں کے تحت پہلے مرحلے میں واضح رہے کہ آگ اور دھوئیں کو محدود کرنے، متاثرہ حصے کو محفوظ حصے سے الگ کرنے اور ضرورت پڑنے پر مریضوں کو اسی منزل پر کسی محفوظ حصے میں منتقل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔

عالمی اسپتال سیفٹی گائیڈ لائنز میں فائر اور اسموک کمپارٹمنٹیشن کو اسی لیے اہم قرار دیا گیا ہے تاکہ فائر فائٹرز کے پہنچنے یا مریضوں کی منتقلی تک آگ اور دھواں دوسرے حصوں تک نہ پھیل سکے۔

خاص طور پر نومولود بچوں کے وارڈ میں صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ ایک نوزائیدہ بچہ خود چل کر باہر نہیں نکل سکتا، جبکہ بعض بچے انکیوبیٹر، آکسیجن یا دیگر طبی سہولیات پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے وارڈ میں عملے کی تربیت، واضح ذمہ داریاں، فوری الارم، متبادل راستے اور بچوں کو منتقل کرنے کے لیے پہلے سے طے شدہ طریقہ کار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

آگ لگنے کے بعد عملہ کیا کرتا ہے؟

اسپتال کے فائر ایمرجنسی پلان میں عموماً یہ واضح ہونا چاہیے کہ آگ کی اطلاع ملتے ہی کون الارم فعال کرے گا، کون فائر بریگیڈ کو اطلاع دے گا، کون بجلی یا متعلقہ یوٹیلیٹی بند کرے گا، کون مریضوں کو منتقل کرے گا اور کون فائر فائٹنگ کے آلات استعمال کرے گا۔

‎عالمی اسپتال سیفٹی اصولوں میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر ایکسٹنگوشرز، واضح ایمرجنسی ایگزٹس، فائر ریزسٹنٹ دروازوں اور باقاعدہ فائر ڈرلز کو بنیادی حفاظتی اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

‎یعنی کسی اسپتال میں صرف فائر ایکسٹنگوشر لگا دینا کافی نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ عملہ جانتا ہو کہ وہ کہاں موجود ہے، اسے کیسے استعمال کرنا ہے، ایمرجنسی ایگزٹ کہاں ہے، کس مریض کو پہلے منتقل کرنا ہے اور آگ کی صورت میں وارڈ سے باہر جانے کے لیے متبادل راستہ کون سا ہے۔

‎نوزائیدہ بچوں کے لیے ’پروگریسو ایویکیویشن‘ کیوں اہم ہے؟

فائر سیفٹی ماہرین کے مطابق اسپتالوں میں ایک اہم اصول progressive evacuation ہے، یعنی پوری عمارت کو ایک ساتھ خالی کرنے کے بجائے پہلے متاثرہ کمرے، پھر متاثرہ فائر یا اسموک کمپارٹمنٹ اور ضرورت پڑنے پر اگلے محفوظ حصے میں مریضوں کو منتقل کرنا۔

عالمی اسپتال فائر سیفٹی گائیڈ لائنز میں عمارت کو مختلف فائر اور اسموک کمپارٹمنٹس میں تقسیم کرنے پر زور دیا جاتا ہے تاکہ مریضوں کو آگ کے قریب ترین خطرے سے دور کسی محفوظ حصے میں منتقل کرنے کے لیے اضافی وقت مل سکے۔

نومولود بچوں کے وارڈ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ عملے کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے کہ انکیوبیٹرز یا بچوں کو کس سمت منتقل کرنا ہے، کون سا راستہ محفوظ ہے اور اگر لفٹ استعمال نہیں کی جاسکتی تو بچوں کو محفوظ طریقے سے کس متبادل راستے سے منتقل کیا جائے گا۔

‎کیا فائر ڈرل صرف رسمی کارروائی ہے؟

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اسپتالوں میں باقاعدہ فائر ڈرلز اور ایمرجنسی سمولیشنز کا مقصد عملے کو حقیقی صورتحال کے لیے تیار کرنا ہے۔

واضح رہے کہ ڈبلیو ایچُ او کی ایک حالیہ اسپتال فائر سیفٹی مشق میں بھی طبی عملے، فائر ریسپانس اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں نے مشترکہ طور پر ہنگامی انخلا کی مشق کی تاکہ کسی حقیقی واقعے میں رابطہ کاری بہتر ہوسکے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک فائر ڈرل پروٹوکول میں ٹیسٹ ایویکیویشن کم از کم سال میں ایک مرتبہ، جبکہ مکمل عمارت کی ایویکیویشن ڈرل سالانہ کرنے اور مشق کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

پاکستان میں بھی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے اسپتال سیفٹی معیارات میں فائر اور نان فائر ایمرجنسیز کے لیے فائر پلان، ایویکیویشن پلان، فائر فائٹنگ آلات اور موک ڈرل کے ریکارڈ کو جانچنے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس لیے ماہرین کے مطابق پمز واقعے کی تحقیقات میں یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ متاثرہ وارڈ میں آخری فائر ڈرل کب ہوئی تھی؟ عملے کو اس کی تربیت دی گئی تھی یا نہیں؟ اور اگر ڈرل ہوئی تھی تو اس میں سامنے آنے والی خامیوں کو دور کیا گیا تھا یا نہیں؟

آکسیجن والے وارڈ میں خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟

‎پمز واقعے میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ابتدائی طور پر بتایا کہ ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں دھماکے کے بعد آگ لگی اور وارڈ میں موجود آکسیجن کی وجہ سے آگ زیادہ شدت سے پھیلی۔

تاہم اس حوالے سے حتمی تکنیکی نتیجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اسپتالوں میں آکسیجن سے بھرپور ماحول، الکوحل بیسڈ سینیٹائزرز، اوورلوڈڈ برقی نظام اور فائر سپریشن کے ناکافی انتظامات آگ کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ اسی لیے اسپتالوں کے لیے فائر رسک اسیسمنٹ اور باقاعدہ حفاظتی جانچ ضروری ہے۔

‎ایمرجنسی ایگزٹس اور دروازوں کا سوال

اس واقعے کے حوالے سے مختلف ذرائع نے متاثرہ وارڈ کے ایمرجنسی راستوں اور فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی مکمل سرکاری تصدیق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ہوسکے گی۔

واضح رہے کہ یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اسپتال کے ایمرجنسی راستے صرف موجود ہونا کافی نہیں؛ ان کا ہر وقت قابل استعمال ہونا بھی ضروری ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی اسپتال سیفٹی گائیڈ لائنز میں واضح فائر ایگزٹس، روشن ایگزٹ سائنز، فائر ریزسٹنٹ دروازوں اور صاف سیڑھیوں کو بنیادی حفاظتی تقاضوں میں شامل کیا گیا ہے۔

اگر کسی وارڈ کا دروازہ، ایگزٹ یا راستہ کسی بھی وجہ سے استعمال کے قابل نہ ہو تو چند منٹ کی تاخیر بھی ایسے مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے جو خود حرکت نہیں کرسکتے۔

تحقیقات میں صرف ’آگ کیسے لگی‘ نہیں، ’بچاؤ کیوں نہ ہوسکا‘ بھی لازم ہے

پمز واقعے کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو صرف آگ کے آغاز کی وجہ معلوم کرنے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے فائر سیفٹی انتظامات اور ریسکیو آپریشن کی مؤثریت کا بھی جائزہ لینا ہے۔

اسی لیے تحقیقات میں کم از کم یہ سوالات یقینی طور پر شامل ہونگے:

• متاثرہ نرسری میں اسموک ڈیٹیکٹر اور فائر الارم فعال تھے یا نہیں؟

• فائر ایکسٹنگوشرز اور فائر ہائیڈرنٹس قابل استعمال تھے یا نہیں؟

• فائر ہوزز میں پانی اور ضروری کنکشن موجود تھے یا نہیں؟

• ایمرجنسی ایگزٹس کھلے اور قابل استعمال تھے یا نہیں؟

• وارڈ میں موجود عملے کی تعداد اس وقت کے مریضوں کے حساب سے کافی تھی یا نہیں؟

• کیا عملے کو نومولود بچوں کی ہنگامی منتقلی کی تربیت دی گئی تھی؟

• آخری فائر ڈرل کب ہوئی اور اس کا ریکارڈ کہاں ہے؟

• بجلی، ایئرکنڈیشننگ اور آکسیجن سسٹم کی آخری سیفٹی انسپیکشن کب ہوئی؟

• کیا وارڈ میں فائر اور اسموک کمپارٹمنٹیشن موجود تھی؟

• فائر بریگیڈ کے پہنچنے تک وارڈ سے بچوں کو نکالنے کے لیے کیا عملی منصوبہ موجود تھا؟

• کیا فائر الارم اور اسپتال انتظامیہ کے درمیان فوری رابطے کا نظام مؤثر تھا؟

پمز واقعہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ محض ایک اسپتال کی انتظامی خامی کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے مجموعی نظام کو جانچنے کا موقع بھی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اسپتالوں میں مریضوں کی زیادہ تعداد، آکسیجن اور دیگر آتش گیر یا خطرناک مواد کی موجودگی کے باعث فائر کا خطرہ عام عمارتوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اسپتال سیفٹی میں صرف عمارت کی مضبوطی نہیں بلکہ ایمرجنسی مینجمنٹ، عملے کی تربیت، آلات کی دستیابی اور ہنگامی ردعمل بھی شامل ہونا چاہیے۔

پمز میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔ اصل سوال اب یہ ہوگا کہ رپورٹ میں صرف آگ لگنے کی وجہ بتائی جاتی ہے یا یہ بھی سامنے لایا جائےگا کہ ایک ایسے وارڈ میں، جہاں ایسے نومولود موجود تھے جو خود اپنی جان نہیں بچا سکتے، فائر ایمرجنسی کے لیے عملی طور پر کون سے انتظامات موجود تھے۔

آگ لگنے پر فائر سیفٹی اور انخلا کے پروٹوکول پر فوری عمل کرنا ہوتا ہے، ترجمان ریسکیو 1122

ترجمان ریسکیو 1122، حسان الحسیب کے مطابق کسی اسپتال کی نرسری یا نومولود بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے کی صورت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عملہ پہلے سے طے شدہ فائر سیفٹی اور انخلا کے پروٹوکول پر فوری عمل کرے۔

انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی اسپتال فائر سیفٹی میں بنیادی طریقۂ کار RACE کے اصول کے تحت خطرے میں موجود افراد کو بچانا، فائر الارم فعال کرنا اور متعلقہ ٹیموں کو اطلاع دینا، آگ اور دھوئیں کو محدود کرنا اور صورتِ حال کے مطابق آگ بجھانے یا انخلا کا فیصلہ کرنا شامل ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ نومولود بچے خود چل کر محفوظ مقام تک نہیں پہنچ سکتے، اس لیے نرسری کے لیے پہلے سے مخصوص انخلا کا منصوبہ اور محفوظ مقام مقرر ہونا چاہیے۔ ترجیحاً بچوں کو اسی منزل پر موجود ایسے محفوظ حصے میں منتقل کیا جانا چاہیے جہاں دھوئیں کا خطرہ نہ ہو۔ انکیوبیٹرز، آکسیجن یا دیگر طبی آلات پر موجود بچوں کی منتقلی کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور مناسب سامان دستیاب ہونا ضروری ہے۔

‎حسان الحسیب کے مطابق ضرورت پڑنے پر پورٹیبل آکسیجن اور دیگر زندگی بچانے والے آلات بھی محفوظ طریقے سے منتقل کیے جانے چاہییں، جبکہ ہر بچے کی شناخت، طبی حالت اور منتقلی کا ریکارڈ برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔ مرکزی آکسیجن کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ صرف مجاز طبی اور تکنیکی عملے کے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق عمارت سے مکمل انخلا آخری مرحلہ ہے اور اس وقت کیا جانا چاہیے جب موجودہ منزل بھی محفوظ نہ رہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ نرسری میں فعال خودکار فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر ڈورز، دھواں روکنے والے حصے اور واضح و روشن ہنگامی راستے بنیادی حفاظتی انتظامات میں شامل ہیں۔ آگ بجھانے والے آلات قابلِ رسائی اور باقاعدگی سے معائنہ شدہ ہونے چاہییں، جبکہ جہاں ضروری ہو وہاں خودکار فائر سپرنکلر اور دیگر آگ بجھانے کے نظام بھی فعال حالت میں ہونے چاہییں۔ فائر ڈرلز میں ایسے نومولود بچوں کے عملی انخلا کی مشق بھی شامل ہونی چاہیے جو خود چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

‎پمز جیسے کسی واقعے میں جانی نقصان کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی تحقیق سے پہلے کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

حسان الحسیب کے مطابق غیر جانبدارانہ تحقیقات میں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ آگ کہاں اور کیسے لگی، دھواں کس طرح پھیلا اور آگ کتنی شدت اختیار کر گئی۔ اس کے ساتھ فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر فائٹنگ سسٹم، فائر ڈورز، ہنگامی راستوں اور دھوئیں سے محفوظ حصوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: طلال چوہدری کا پمز اسپتال کا دورہ: واقعے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیر مملکت داخلہ

‎ان کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم حصہ عملے کی تربیت، فائر ڈرلز، انخلا کے طریقۂ کار اور ہنگامی ردِعمل کا جائزہ بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ واقعے کی مکمل زمانی ترتیب جاننے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج، فائر الارم کے ریکارڈ، ہنگامی کالز اور دیگر دستیاب شواہد کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آگ لگنے کے بعد ابتدائی چند منٹوں میں کیا اقدامات کیے گئے اور کہاں حفاظتی نظام یا ہنگامی ردِعمل میں خامی سامنے آئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نوجوانوں کو سیرت رسول ﷺ کی تعلیمات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

پمز میں فائر سیفٹی خامیوں کی نشاندہی، ڈاکٹرز اور عملے کو فائر سیفٹی ٹریننگ بھی نہ مل سکی

سانحہ پمز کی تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، مریم نواز کا غمزدہ والدین سے اظہار رنج و غم

طلال چوہدری کا پمز اسپتال کا دورہ: واقعے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیر مملکت داخلہ

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کا پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار