پاکستان کے 74 فیصد شہری گھرانے ماہانہ اخراجات پورے کرنے سے قاصر، سروے

منگل 6 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شہروں میں رہنے والے پاکستانی صارفین کے مالی چیلنجز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے جو 14 فیصد ہے جبکہ 74 فیصد گھرانے ایسے ہیں جو اپنی ماہانہ آمدنی میں رہتے ہوئے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کے باعث 89 فیصد پاکستانیوں نے گھر سے باہر کھانا کم کردیا، گیلپ سروے

مارکیٹنگ ریسرچ کے ادارے پلس کنسلٹنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی کی موجودہ لہر کے باعث10  میں سے 7 شہری پاکستانی گھرانے (74 فیصد) اپنی موجودہ آمدنی سے اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکے۔ مئی 2023 میں یہ تناسب 60 فیصد تھا۔

اپنے اخراجات پورے نہ کرسکنے والے مذکورہ 74 فیصد خاندانوں میں سے 60 فیصد نے اپنے اخراجات کم کیے  جس کا اشیائے خورونوش کی خریداری پر براہ راست اثر پڑا۔ ان خاندانوں میں سے 40 فیصد کو ادھار رقم لے کر اپنے اخراجات پورے کرنے پڑے جبکہ ان میں سے کچھ (10 فیصد) ایسے بھی تھے جنہیں اضافی جزوقتی ملازمتیں کرکے اپنے اخراجات سے نمٹنا پڑا۔

مزید پڑھیے: پاکستانی معیشت درست سمت پر گامزن، مہنگائی کم ہوگی: یواین اکنامک سروے

50 فیصد سے کچھ زیادہ صارفین اپنی آمدنی کی مدد سے اپنے اخراجات پورے کرنے میں کسی نہ کسی طرح کامیاب تو ہوجاتے ہیں لیکن ان کے مطابق پھر اس کے بعد وہ کوئی رقم بچا نہیں سکتے۔

پلس کنسلٹنٹ کی طرف سے جولائی میں ایک ٹیلی فونک مطالعہ کیا گیا جس میں پاکستان کے ٹاپ 11 شہروں 18-55 سال کے درمیان افراد سے ان کی رائے جانی گئی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہوگا؟ عالمی بینک نے رپورٹ جاری کردی

اگست میں 17 شہروں میں 1800 سے زائد مرد و خواتین سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ خریداری اور کھپت پر مہنگائی کے اثرات کا اندازہ لگایا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp