امریکا نے ایران پر دوبارہ حملہ کر دیا، تہران کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے ایران پر ایک اور بڑے فضائی حملوں کی لہر شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کو ختم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، جس سے خطے میں دوبارہ مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف ایک اور بڑے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک روز قبل کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے اور اسے جون کے وسط میں جنگ بندی کے لیے ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بعد اب تک کی شدید ترین کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

معروف عرب ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘ نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جنوب مشرقی ایران کے شہر ایرانشہر کے ہوائی اڈے پر حملے میں ایک فائر فائٹر ہلاک ہو گیا، جبکہ تازہ امریکی حملوں میں ایرانشہر، بندر عباس، کنارک، چابہار، بوشہر اور شمال مشرقی ایران کے آق قلعہ کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے اضافی حملے شروع کیے ہیں، جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

سینٹکام کے مطابق امریکا ایران کو تجارتی بحری جہازوں اور ان کے عملے پر حالیہ حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے، جنہیں ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے۔

اس بیان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے اطلاع دی کہ بندر عباس کے قریب فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا اور ’دشمن کے اہداف‘ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بعد ازاں ایرانی حکام نے فارس نیوز کو بتایا کہ چابہار میں بحری نگرانی کے کنٹرول ٹاور اور ایک ڈپو پر حملے کیے گئے، جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق آق قلعہ میں ایک ریلوے پل بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایران کی پاسداران انقلاب  نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے چند گھنٹوں بعد مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں شروع کی گئی ’جوابی سزا‘ کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

آئی آر جی سی کے مطابق حملوں میں کویت میں واقع کیمپ عریفجان (Camp Arifjan) فوجی اڈے اور علی السالم ایئربیس (Ali Al Salem Air Base) کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی بیان کے مطابق بحرین میں بھی امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جفیر (Juffair) اور شیخ عیسیٰ (Sheikh Isa) کے فوجی اڈے شامل ہیں۔

گزشتہ روز بھی 80 سے زائد اہداف پر حملے

امریکا نے منگل کو بھی ایران پر حملے کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی میں 80 سے زائد اہداف کو انتہائی درست ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایرانی فوج کے مطابق بندر عباس اور بوشہر میں ہونے والے امریکی حملوں میں فضائیہ اور بحریہ کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے۔

جنگ بندی معاہدے کی تشریح پر تنازع

امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔

یہ معاہدہ لڑائی کے خاتمے، ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر مشتمل تھا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے انتظام جیسے پیچیدہ معاملات کو 60 روزہ مذاکرات کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

تنازع بنیادی طور پر معاہدے کی پانچویں شق پر ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران اپنی بہترین کوششوں سے 60 روز تک خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔

ایران کے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس شق کا مطلب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے انتظامات کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے، جبکہ امریکا اس تشریح کو مسترد کرتا ہے۔

امریکی ماہر کی وضاحت

پینٹاگون میں نیٹو آپریشنز کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ ڈیس روشز نے کہا کہ معاہدے کے تحت امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کی اور ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں نرمی کی، جبکہ ایران نے شہری جہاز رانی میں مداخلت نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ان کے مطابق ایران نے بعض جہازوں پر حملے کر کے ایک نیا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی، جس کے تحت تمام بحری جہازوں کو ایرانی پانیوں سے گزرنا پڑتا، اور یہی اقدام صدر ٹرمپ کے لیے ناقابل قبول تھا، جس کے جواب میں یہ حملے کیے گئے۔

ٹرمپ کی سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کو ’انتہائی سخت‘ جواب دیا ہے اور مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے کہا ’اگر وہ ایک حملہ کریں گے تو ہم اس کا 20 گنا جواب دیں گے۔‘

تاہم اس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا جنگ دوبارہ شروع ہوگی اور اگر کچھ ہوا بھی تو وہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔

امریکا میں بھی مخالفت

امریکی حملوں پر صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین نے بھی شدید تنقید کی ہے۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ مزید انسانی جانوں کے ضیاع اور امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر کے نقصان کا باعث بنے گی۔

ٹرمپ کی نئی دھمکیاں

نیٹو اجلاس کے موقع پر ٹرمپ نے ایران کو مزید سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا ایران پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کر سکتا ہے، بجلی گھروں اور پانی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور حتیٰ کہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ پر بھی قبضہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہرینِ بین الاقوامی قانون کے مطابق شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، جبکہ خارگ جزیرے پر قبضے کی کسی بھی کوشش کے لیے زمینی فوجی کارروائی ناگزیر ہوگی، جس سے خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

امریکی حملے کب تک جاری رہیں گے؟

دوسری طرف امریکی نائب صدر وینس نے دھمکی دی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واشنگٹن میں نیوز بریفنگ میں وینس نے کہا کہ امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایرانی ہرمز نہیں کھولتے اور جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی معاہدہ یہ تھا کہ اگر ایران جہازوں پر فائرنگ کرے گا تو امریکا بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کرے یا پھر وہی کچھ بھگتے جو گزشتہ رات ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

جی ایس پی پلس برقرار رکھنے کے لیے یورپی یونین کی شرائط، برآمدی شعبہ حکومتی اقدامات کا منتظر

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

پاکستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

کویتی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے ہنگامی رابطہ، قیام امن کے لیے اسلام آباد ایم او یو پر مکمل عملدرآمد کی اپیل

ویڈیو

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، نصرت جاوید نے ایرانی پراکسی کا کچا چٹھا کھول دیا

کالم / تجزیہ

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟