عمران خان کا مورال بلند، وہ جیل میں رہنے کے عادی ہوچکے ہیں، ذاتی معالج کا طبی معائنے کے بعد بیان

ہفتہ 24 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کیا اور ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔

عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کے بعد اپنے ایک ویڈیو بیان میں ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کا جیل میں مورال بلند ہے اور اب وہ قید میں رہنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں عمران خان جیل میں رہ لے گا مگر کسی سے ڈیل نہیں کرےگا، عارف علوی

انہوں نے کہاکہ عمران خان کی جیل میں صحت کافی اچھی ہے، وہ تندرست اور متحرک ہیں، جبکہ کھانے پینے کی بھی کوئی تکلیف نہیں۔

ڈاکٹر عاصم نے کہاکہ عمران خان کی جیل میں دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر معمول کے مطابق ہے، وہ قید میں کتابیں پڑھ رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر فیصل سلطان یا مجھے اجازت ہونی چاہیے کہ ہم ہر دو ہفتے بعد عمران خان کا جیل میں معائنہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں قید بامشقت،عمران خان جیل میں کیا ڈیوٹی سرانجام دیں گے؟

یاد رہے کہ عمران خان کے وکلا کی درخواست پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کرکے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے رکھا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد، 11 اور 12 اپریل کو خصوصی ٹریفک پلان نافذ، ریڈ زون مکمل بند

امریکا ایران جنگ بندی میں کردار، عثمان بزدار بھی حکومتی کوششوں کے معترف

وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خزانہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

پاکستان کے معاشی اہداف خطرے میں، عالمی بینک نے خبردار کردیا

افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا

ویڈیو

پاکستان کے لیے تاریخی لمحہ، وزیراعظم شہباز شریف کو دنیا بھر سے کالز

ایران امریکا جنگ بندی: پاک فوج اور وزیراعظم کے حق میں یوم تشکر ریلی

پاکستان کی نئی عالمی پہچان، تنہائی سے مرکز امن تک

کالم / تجزیہ

اسلام آباد میں آخری اوور

اسلام آباد مذاکرات: لبنان جنگ سب بگاڑ سکتی ہے

امن مذاکرات: توقعات، امکانات اور خدشات