شام نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے ان تمام فوجی اڈوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں برسوں سے امریکا کے فوجی اسلامک اسٹیٹ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی قیادت میں تعینات تھے۔
حالیہ مہینوں میں شام کی نئی اسلام پسند حکومت نے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنا کنٹرول بڑھایا ہے، جو پہلے امریکا کے حمایت یافتہ کرد فورسز کے زیرِ قبضہ تھے۔
دوسری حکومت نے باضابطہ طور پر انسدادِ داعش عالمی اتحاد میں بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔
امریکا نے 2014 میں شام میں مداخلت کی تھی تاکہ داعش کے خلاف کارروائی کی جا سکے، جس نے تیز رفتار حملوں کے ذریعے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے 5 ہزار سے زائد داعش جنگجوؤں کو شام سے عراق منتقل کردیا
شام کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ان فوجی اڈوں کی منتقلی کا خیرمقدم کرتی ہے جہاں پہلے امریکی افواج موجود تھیں۔
یہ عمل شام اور امریکا کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انجام پایا۔
دمشق کے مطابق یہ اقدام اس مشترکہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ حالات جن کی وجہ سے شام میں امریکی فوجی موجودگی ضروری تھی، اب بنیادی طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شامی ریاست اب خود انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور اس سلسلے میں عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔
The Syrian Government confirms that the military base has been handed over completely.
From this day on, there is no Counter-ISIS US presence in Syria anymore.I always find such things interesting:
40% of this statement consists of the Syrian Government glorifying itself.… https://t.co/Rtg7WFk4no pic.twitter.com/zdK7tXaKs2— Scharo Bajalan (@ScharoBajalan) April 16, 2026
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے ایک مرحلہ وار اور حالات کے مطابق عمل کے تحت شام میں اپنے تمام بڑے فوجی اڈے خالی کر دیے ہیں۔
تاہم وہ اب بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں معاونت جاری رکھیں گی تاکہ داعش کی مکمل شکست کو یقینی بنایا جا سکے۔
قبل ازیں شامی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ فوج نے قصرک ایئربیس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جہاں سے بین الاقوامی اتحاد کی افواج کا انخلا مکمل ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: ’یہ انتقام ہے، جنگ نہیں‘، امریکا کے شام میں داعش پر بھرپور فضائی و زمینی حملے
شمال مشرقی شہر قامشلی کے قریب اے ایف پی کے نمائندے نے امریکی فوجی گاڑیوں کا ایک قافلہ عراق کی سرحد کی جانب جاتے ہوئے بھی دیکھا۔
قصرک ایئر بیس کو شمال مشرقی شام میں امریکی افواج کا ایک اہم اڈہ سمجھا جاتا تھا، جو حالیہ مہینوں میں عراق جانے والے فوجی سازوسامان اور قافلوں کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
رواں سال کے آغاز میں شامی کرد فورسز کو حکومتی افواج کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کچھ علاقوں سے دستبردار ہونا پڑا، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت شامی ڈیموکریٹک فورسز اور کرد سول اداروں کو مرحلہ وار ریاستی ڈھانچے میں ضم کیا جا رہا ہے۔

2019 میں داعش کی علاقائی شکست میں انہی کرد قیادت میں قائم فورسز نے امریکی اتحاد کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
تاہم حالیہ عرصے میں امریکا نے شام کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے ہیں اور اس سال یہ بھی کہا کہ کرد فورسز کے ساتھ اس کا اتحاد بڑی حد تک اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔
گزشتہ ماہ شام نے الحسکہ صوبے میں رمیلان اڈے کا کنٹرول بھی سنبھالنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ حالیہ مہینوں میں امریکی افواج التنف اور شدادی جیسے اڈوں سے بھی نکل چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: شام اور اسرائیل سرحدی تنازع ختم کرنے کے قریب ہیں، امریکا
شامی وزارتِ خارجہ کے مطابق ملک کے ان علاقوں میں ریاستی اختیار کا پھیلاؤ، جو پہلے حکومتی کنٹرول سے باہر تھے، دراصل ملک کو ایک متحد ریاست بنانے کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس عمل سے دہشتگردی کے خلاف مکمل ذمہ داری اب شامی ریاست نے سنبھال لی ہے اور علاقائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی مضبوط ہوئی ہے۔












