امریکا کا شام سے فوجی انخلا مکمل، اڈے دمشق کے حوالے

جمعرات 16 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شام نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے ان تمام فوجی اڈوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں برسوں سے امریکا کے فوجی اسلامک اسٹیٹ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی قیادت میں تعینات تھے۔

حالیہ مہینوں میں شام کی نئی اسلام پسند حکومت نے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنا کنٹرول بڑھایا ہے، جو پہلے امریکا کے حمایت یافتہ کرد فورسز کے زیرِ قبضہ تھے۔

دوسری حکومت نے باضابطہ طور پر انسدادِ داعش عالمی اتحاد میں بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔

امریکا نے 2014 میں شام میں مداخلت کی تھی تاکہ داعش کے خلاف کارروائی کی جا سکے، جس نے تیز رفتار حملوں کے ذریعے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے 5 ہزار سے زائد داعش جنگجوؤں کو شام سے عراق منتقل کردیا

شام کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ان فوجی اڈوں کی منتقلی کا خیرمقدم کرتی ہے جہاں پہلے امریکی افواج موجود تھیں۔

یہ عمل شام اور امریکا کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انجام پایا۔

دمشق کے مطابق یہ اقدام اس مشترکہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ حالات جن کی وجہ سے شام میں امریکی فوجی موجودگی ضروری تھی، اب بنیادی طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ شامی ریاست اب خود انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور اس سلسلے میں عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے ایک مرحلہ وار اور حالات کے مطابق عمل کے تحت شام میں اپنے تمام بڑے فوجی اڈے خالی کر دیے ہیں۔

تاہم وہ اب بھی اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں معاونت جاری رکھیں گی تاکہ داعش کی مکمل شکست کو یقینی بنایا جا سکے۔

قبل ازیں شامی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ فوج نے قصرک ایئربیس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جہاں سے بین الاقوامی اتحاد کی افواج کا انخلا مکمل ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: ’یہ انتقام ہے، جنگ نہیں‘، امریکا کے شام میں داعش پر بھرپور فضائی و زمینی حملے

شمال مشرقی شہر قامشلی کے قریب اے ایف پی کے نمائندے نے امریکی فوجی گاڑیوں کا ایک قافلہ عراق کی سرحد کی جانب جاتے ہوئے بھی دیکھا۔

قصرک ایئر بیس کو شمال مشرقی شام میں امریکی افواج کا ایک اہم اڈہ سمجھا جاتا تھا، جو حالیہ مہینوں میں عراق جانے والے فوجی سازوسامان اور قافلوں کے لیے لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔

رواں سال کے آغاز میں شامی کرد فورسز کو حکومتی افواج کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کچھ علاقوں سے دستبردار ہونا پڑا، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت شامی ڈیموکریٹک فورسز اور کرد سول اداروں کو مرحلہ وار ریاستی ڈھانچے میں ضم کیا جا رہا ہے۔

2019 میں داعش کی علاقائی شکست میں انہی کرد قیادت میں قائم فورسز نے امریکی اتحاد کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

تاہم حالیہ عرصے میں امریکا نے شام کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے ہیں اور اس سال یہ بھی کہا کہ کرد فورسز کے ساتھ اس کا اتحاد بڑی حد تک اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔

گزشتہ ماہ شام نے الحسکہ صوبے میں رمیلان اڈے کا کنٹرول بھی سنبھالنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ حالیہ مہینوں میں امریکی افواج التنف اور شدادی جیسے اڈوں سے بھی نکل چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: شام اور اسرائیل سرحدی تنازع ختم کرنے کے قریب ہیں، امریکا

شامی وزارتِ خارجہ کے مطابق ملک کے ان علاقوں میں ریاستی اختیار کا پھیلاؤ، جو پہلے حکومتی کنٹرول سے باہر تھے، دراصل ملک کو ایک متحد ریاست بنانے کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس عمل سے دہشتگردی کے خلاف مکمل ذمہ داری اب شامی ریاست نے سنبھال لی ہے اور علاقائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی مضبوط ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے ساتھ ڈیل ہو گئی تو ہو سکتا ہے میں اسلام آباد جاؤں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پی ایس ایل 11: اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی

اے آئی تصاویر کے ذریعے انشورنس فراڈ میں اضافہ، جعلی نقصان اور فرضی اشیا دکھائے جانے کا انکشاف

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عامر سہیل (ڈمی) کا ’وی ٹو‘ میں دلچسپ انٹرویو

اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش

ویڈیو

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عامر سہیل (ڈمی) کا ’وی ٹو‘ میں دلچسپ انٹرویو

فیلڈ مارشل کی جدوجہد: ایران میدان جنگ میں داخل، امریکا کے ساتھ اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

اسلام آباد امن مذاکرات نے پاکستان کو عروج بخشا، اگلا مرحلہ جلد منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری

کالم / تجزیہ

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘