مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے ذریعے بنائی گئی تصاویر اب انشورنس فراڈ کے نئے طریقے کے طور پر سامنے آ رہی ہیں جن میں جعلی نمبر پلیٹس، فرضی گھڑیاں اور نقصان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا استعمال کیوں کیا؟ نیویارک ٹائمز نے صحافی کو برخاست کردیا
یوں تو اس کے شواہد فی الحال برطانیہ کے حصے ویلز کے شہر کارڈف میں ملے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ یہ اب عالمی سطح پر بھی مسائل کھڑے کرسکتا ہے اور دیگر ممالک میں بھی لوگ اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
کارڈف میں قائم انشورنس کمپنی ایڈمرل کے مطابق سنہ 2025 کے دوران فراڈ کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 71 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی ایک بڑی وجہ شواہد کو تبدیل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
انشورنس فراڈ بیورو نے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈسٹری اس خطرے سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ اے آئی سے تیار کردہ جعلی دعوؤں کی نشاندہی کی جا سکے۔
مزید پڑھیے: ایف آئی اے کی کارروائی،مالی فراڈ میں ملوث 3نائیجرین باشندے گرفتار
کمپنی کے ایک اہلکار کے مطابق صارفین کی جانب سے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایسی تصاویر تیار کی جا رہی ہیں جن میں اشیا کو نقصان زدہ دکھایا جاتا ہے جبکہ بعض کیسز میں مکمل طور پر جعلی دستاویزات بھی تیار کی گئی ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھیں۔
ایڈمرل کے مطابق بعض صارفین نے انتہائی سادہ اے آئی جنریٹڈ تصاویر بھی بطور ثبوت جمع کرائیں جن میں ایک مثال سونے اور ہیروں سے بنی گھڑی کی تصویر کی ہے جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھی۔
اسی طرح کچھ کیسز میں گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کو بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا جبکہ ایک کیس میں گاڑی کی نمبر پلیٹ کو تبدیل کر کے ایک ہی دعوے کو دو بار پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
کمپنی کے مطابق ان تمام جعلی کوششوں کو ان کے فراڈ ڈیٹیکشن سسٹم نے شناخت کر لیا اور متعلقہ کلیمز مسترد کر دیے گئے۔
انشورنس انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی ٹیکنالوجی عام دستیاب ہو رہی ہے تاہم اسی کے ساتھ جدید اینٹی فراڈ سسٹمز بھی بہتر بنائے جا رہے ہیں جو تصاویر اور دستاویزات میں کی گئی ہیرا پھیری کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انشورنس فراڈ بیورو کے مطابق بعض افراد موقع پرستی کے طور پر اپنے جائز کلیمز کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں جبکہ منظم جرائم پیشہ گروہ بھی جعلی دستاویزات تیار کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ فراڈ کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف انفرادی سطح پر قانونی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر انشورنس پریمیم میں اضافے کا سبب بھی بنتے ہیں، جو تمام صارفین پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے، پالیسی منسوخی اور بعض صورتوں میں فوجداری مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔













