8 سالہ بچے کو خاتون نے نالے میں پھینک دیا، سوگوار والد کا بیان سامنے آگیا

بدھ 11 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے پرانا گولیمار میں 8 سالہ بچہ کے نالے میں ڈوبنےکی اطلاع پر گزشتہ شام ریسکیو 1122 نے آپریشن شروع کیا جسے ہانی کے بہاؤ، نالے میں کچرے اور اندھیرے کے باعث دو بار روکنا پڑا، آج صبح بچے کی لاش نالے سے نکال لی گئی ہے۔

عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں پولیس کا موقف ہے کہ 8 سالہ حیدر علی کو ایک خاتون نے نالے میں پھینکا تھا، جن کا دماغی توازن درست نہیں، عینی شاہدین کے مطابق بچہ نالے کے نزدیک کھیل رہا تھا کہ ایک خاتون نے اسے نالے میں پھینک کر فرار ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی، اندھی گولی سے بچی کی ہلاکت کا واقعہ، مبینہ ملزم جسمانی ریمانڈ کے لیے پولیس کے حوالے

ہلاک ہونیوالے بچے کے والد وسیم کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان صدمہ سے دوچار ہے اور اس وقت کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا نہیں سوچا، کیونکہ عینی شاہدین کے مطابق جس خاتون نے دھکا دیا تھا اس کی ذہنی حالت درست نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق حیدرعلی کے نالے میں ڈوبنے سے متعلق اس کے والد وسیم نے ہی پولیس ہیلپ لائن مددگار 15 پر کال کرکے آگاہ کیا تھا، اس واقعہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘