پاور سیکٹر گردشی قرضہ 9.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کے باعث اصلاحات ناگزیر ہیں، اویس لغاری

بدھ 30 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ٹاسک فورس پاور سیکٹر میں مختلف اصلاحات کے ذریعے ملک کی اقتصادی ترقی اور عوام کی بہتری کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 9.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی وجہ سے یہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔

وزیر توانائی نے مزید کہا کہ اصلاحات کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں کمی، بجلی کی دستیابی کو بہتر بنانا اور ایک مستحکم مسابقتی پاور مارکیٹ کا قیام ہے۔ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے کچھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی جانچ پڑتال اور کچھ کے ساتھ پرانے کنٹریکٹ ختم بھی کیے ہیں۔

مزید پڑھیں:چند ہفتوں میں پاور سیکٹر سے اچھی خبریں ملیں گی، اویس لغاری

ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں کمی بلکہ حکومت کی اخراجات میں بھی کمی آئےگی۔ ایک نئی پاور مارکیٹ کا ڈھانچہ متعارف کرایا جائے گا جہاں صارفین بجلی خرید سکیں گے۔ نئی پاور مارکیٹ میں صارفین مختلف کمپنیوں کی پیش کردہ بجلی کے پیکجز میں سے انتخاب کرسکیں گے۔

نیشنل ٹاسک فورس کی بہترین حکمت عملی کے باعث پاور سیکٹر میں جامع اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے احکامات کی روشنی میں پاور سیکٹر میں اصلاحات کے لیے نیشنل ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ٹاسک فورس میں چیئرمین وزیر توانائی اویس لغاری کے علاوہ آرمی آفیشلز اور دیگر اداروں کی نمائندگی بھی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

سہ ملکی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں