پاکستان کی درخواست مسترد، آئی ایم ایف کا ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے کا مطالبہ

ہفتہ 2 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریونیو شارٹ فال کے بعد پاکستان سے ٹیکس وصولیوں کے لیے اضافی اقدامات پر عمل درآمد کرنے کو کہا ہے۔

ہفتہ کے روز پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے ٹیکس وصولی کے اہداف پر نظر ثانی کی پاکستان کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، آمدنی اخراجات سے زیادہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آر کے حکام نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات اٹھائیں جائیں اور ٹیکس شارٹ فال کو پورا کیا جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ ورچوئل بات چیت کے دوران ایف بی آر نے اپنے ٹیکس اہداف میں کمی کی درخواست کی تھی لیکن آئی ایم ایف نے اس درخواست کو بھی مسترد کردیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق ایف بی آر کے ٹیکس شارٹ فال سے پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی دوسری قسط کی فراہمی بھی متاثر ہوسکتی ہے اور اگر آنے والے مہینوں میں یہ شارٹ فال بڑھتا ہے تو مزید مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:ٹیکس نظام کی بہتری اور محصولات میں اضافے کے لیے ایف بی آر نے نیا سسٹم متعارف کرادیا

واضح رہے کہ وزارت خزانہ نے جمعرات کو رواں مالی سال کی جولائی تا ستمبر سہ ماہی کے لیے مالی آپریشن سمری جاری کی تھی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے چاروں صوبوں کی جانب سے پرائمری بجٹ سرپلس اور محصولات کی وصولی کے آئی ایم ایف کے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

وفاقی حکومت نے 198 ارب روپے کے پرائمری سرپلس کی اہم شرط پوری کی، جو درحقیقت 3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئی، جو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2.4 فیصد ہے۔ زیادہ سرپلس کی بنیادی وجہ پہلی سہ ماہی میں مرکزی بینک کے سالانہ منافع پر منحصر تھی۔

پہلی سہ ماہی میں مرکزی بینک کے مجموعی 2.5 ٹریلین روپے کے منافع کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو آنے والے مہینوں میں برابر ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر خزانہ کا دورہ امریکا، پاکستان کی آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر فنڈنگ کی باقاعدہ درخواست

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کا بجٹ خسارے میں ہے کیونکہ اس نے 3 ماہ میں 160 ارب روپے کا خسارہ برداشت کیا۔ باقی تمام صوبوں کو نقد سرپلس حاصل تھا۔

چاروں صوبوں کی جانب سے 342 ارب روپے کیش سرپلس پیدا کرنے، تاجروں سے 10 ارب روپے وصول کرنے اور ٹیکس ہدف کی مد میں 2.652 ٹریلین روپے حاصل کرنے سے متعلق 3 شرائط پوری نہیں ہو سکی ہیں۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب کی توسیع پسندانہ مالیاتی پالیسیوں کی بدولت صوبائی کیش سرپلس میں مجموعی طور پر 342 ارب روپے کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔

مزید پڑھیں: حکومت کا نان فائلرز کیٹیگری ختم کرنے کا فیصلہ، ٹیکس جمع نہ کروانے والوں کو کن مشکلات کا سامنا ہوگا؟

حکومت یہ ہدف 182 ارب روپے یا 53 فیصد تک لے جانے میں ناکام ہوئی جو 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد میں سنگین چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم