راولپنڈی کی سوغات گراٹو جلیبی میں کیا ہے خاص بات؟

بدھ 12 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راولپنڈی مری روڈ پر ملنے والی ’دی گراٹو جلیبی‘ اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔ سال کے 12 مہینے فروخت والی جلیبی کی خریدوفروخت رمضان المبارک میں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ گراٹو جلیبی کی دکان پر خریداروں کا رش خوب دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ دور دور سے یہ مشہور جلیبی کھانے کے لیے آتے ہیں۔

’گراٹو جلیبی‘ کی اس دکان کے مالک محمد عمیر اپنے والد کے بعد پچھلے 17 برس سے اس کاروبار کو دیکھ رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے 1983 میں یہ کام شروع کیا تھا۔ اور ’گراٹو‘ نام بھی ان کے والد ہی نے رکھا تھا۔

 وی نیوز سے بات کرتے ہوئے محمد عمیر نے بتایا کی گراٹو اطالوی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب’پہاڑوں میں شگاف‘ کے ہیں۔

انھوں نے ایک سوال پر بتایا کہ اسکی خاصیت یہ ہے کہ اس میں کوئی کیمیکل استعمال نہں ہوتا، یہ میدہ دال ماش اور خمیر سے مل کر بنتی ہے جس کی وجہ سے اس کے ذائقے میں فرق آجاتا ہے اور یہ اس کا خستہ پن زیادہ ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ قطار میں لگ کر گراٹو جلیبی خوشی خوشی خریدنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

مزید جانیے ویڈیو میں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

سہ ملکی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان ساتھ کھڑا ہے، اسحاق ڈار

کوٹھیاں دھرنے کے قریب فائرنگ حادثے کو ریاستی اداروں سے منسوب کرنے کا سوشل میڈیا پروپیگنڈا ناکام

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں