سلامتی کونسل: امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ایک بار پھر ویٹو کردی

بدھ 20 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کے علاقے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی۔

سلامتی کونسل کے 10 منتخب ممالک کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی قرارداد پیش کی گئی، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں فوری طور پر غیرمشروط اور مستقبل جنگ بندی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں جوبائیڈن کے عہدہ چھوڑنے سے قبل غزہ جنگ بندی معاہدہ ممکن نہیں، رپورٹ

سلامتی کونسل کے 10 منتخب ممالک کے علاوہ 4 مستقل ممالک نے بھی ووٹ دیا، تاہم امریکا کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کردیا گیا۔

7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 11 بار جنگ بندی کی قرارداد پیش کی جاچکی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکا کی جانب سے 3 بار غزہ جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں غزہ جنگ بندی مذاکرات: اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ نہ ہوسکا

یہ بھی یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے کیے گئے ایک آپریشن کے بعد شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ میں اب تک 44 ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں