4 رینجرز اہلکاروں کی شہادت کے بعد اسلام آباد میں فوج طلب، شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

منگل 26 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں گزشتہ رات سری نگر ہائی وے پر 4 رینجرز اہلکاروں کی شہادت کے بعد حکومت نے آرٹیکل 245 کے تحت دارالحکومت میں پاک فوج طلب کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سری نگر ہائی وے پر شرپسندوں نے گاڑی رینجرز اہلکاروں پر چڑھا دی جس کے نتیجے میں 4 رینجرز اہلکار شہید جبکہ 5 رینجرز اور پولیس کے جوان شدید زخمی ہیں۔

مزید پڑھیں: 9 مئی کو فسادات برپا کرنے والے پھر پُرتشدد کارروائیوں پر اتر آئے، وزیراعظم شہباز شریف

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شرپسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے میں اب تک رینجرز کے 4 جوان اور پولیس کے 2 جوان شہید ہوچکے ہیں جبکہ 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوچکے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کو بلا لیا گیا ہے اور شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے احکامات جاری کردیے گئے ہیں، جبکہ انتشاریوں اور شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انتشار پسندوں اور دہشتگرد عناصر کی کسی بھی قسم کی دہشتگردانہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بشریٰ بی بی آگے بڑھنے کے لیے بضد، حکومت کے پاس طاقت کا استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، خواجہ آصف

واضح رہے کہ وزیر داخلہ نے رات ساڑھے 12 بجے کے بعد (پیر اور منگل کی درمیانی شب) صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دے دیا تھا کہ اگر ڈی چوک پر احتجاج سے روکنے کے لیے آرٹیکل 245 کا سہارا لینا پڑا تو حکومت اس سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ڈی چوک کے بجائے سنگجانی میں احتجاج کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن پارٹی کی جانب سے ابھی کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیلا روس کے صدر اسلام آباد آئے ہوئے ہیں اگر اس حوالے سے ہمیں آرٹیکل 245 کی مدد لینی پڑے یا کوئی اور اقدام کرنا پڑے تو ہم کریں گے لیکن کسی کو ڈی چوک پر احتجاج نہیں کرنے دیں گے کیونکہ وہ ہماری ریڈ لائن ہے۔

مزید پڑھیں: جنرل عاصم منیر اور چیف جسٹس ملکی معاملات اپنے کنٹرول میں لے لیں، آصف کرمانی

وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے وفد نے 2 مرتبہ اڈیالہ جیل جاکر عمران خان سے بات کی اور میری اطلاع کے مطابق وہ احتجاج کے لیے مقام تبدیل کرنے پر رضامند بھی ہوگئے ہیں تاہم پھر محسن نقوی نے اپنی بات بدل کر پھر یہی کہا کہ حکومت ڈی چوک پر احتجاج کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔

کچھ صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا عمران خان احتجاج ملتوی کرنے یا اس کا مقام تبدیل کرنے پر تیار ہوگئے ہیں تو وزیرداخلہ نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ کچھ نہیں کہہ سکتے یہ ان کی اطلاع ہے کہ عمران خان راضی ہوچکے ہیں تاہم اگر عمران خان کے  اوپر بھی کوئی فیصلہ ساز ہے تو وہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ اس جملے کے بعد انہوں نے اپنی گفتگو ختم کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں