پی ٹی آئی احتجاج، پمز اسپتال اور پولی کلینک میں کتنی لاشیں اور زخمی پہنچے؟

بدھ 27 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں کے دعووں کے حوالے سے اسلام آباد کے پمز اسپتال نے اپنا وضاحتی بیان جاری کردیا۔

پمز اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مظاہرین کی اموات کے بارے میں چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج: اسپتال میں لائے گئے جاں بحق افراد اور زخمیوں کی تعداد سامنے آ گئی

اسپتال کے مطابق احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 66 اہلکار جبکہ 36 سولینز کو ایمرجنسی میں لایا گیا اور ان میں سے  زیادہ  تر افراد کوابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا۔

پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ باقی کچھ افراد ابھی اسپتال میں داخل ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔

مزید پڑھیے: 800 سے زیادہ مظاہرین گرفتار، پی ٹی آئی نے احتجاج کے خاتمے کا اعلان کردیا

علاوہ ازیں احتجاج کے دوران اسلام آباد کے پولی کلینک میں لائے گئے زخمیوں اور لاشوں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پولی کلینک میں 2 لاشیں اور 26 زخمیوں کو لایا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘