پی ٹی آئی احتجاج کی ناکامی، پارٹی اختلافات سے دوچار، بشریٰ بی بی پر تنقید

جمعرات 28 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک انصاف کے اسلام آباد میں حالیہ احتجاج کے بعد پارٹی شدید اختلافات سے دوچار ہے، سینئر پارٹی رہنماؤں کے درمیان احتجاج کی غیر مؤثر حکمت عملی پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی رہنما اس احتجاج کی ناکامی پر براہ راست بشریٰ بی بی کو تنقید کا ہدف بنارہے ہیں، کیونکہ احتجاج کی سربراہی کا بیڑہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ وہ ڈی چوک جانے پر بضد رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج، پنجاب پولیس کے 19 ہزار جوان اسلام آباد پہنچ گئے

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے کیے گئے اس احتجاج کے ذریعہ پارٹی اپنے مقصد میں ناکام رہی، یہی وجہ ہے کہ منگل کی شب ڈی چوک پر آپریشن کے بعد سے پارٹی کے مختلف دھڑوں میں اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔

پارٹی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ علی امین کو قربانی کا بکرا بنایا گیا عمران خان نے دارالحکومت میں سنگجانی کے مقام پر جلسے پر رضامندی ظاہر کی لیکن بشریٰ بی بی ڈی چوک جانے پر اصرار کرتی رہیں۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کا پنجاب میں 24 نومبر کا احتجاجی پلان تبدیل، نیا منصوبہ کیا ہے؟

شوکت یوسفزئی نے بشریٰ بی بی کی جانب سے احتجاج کی سربراہی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کا بھی فیصلہ ہونا چاہیے کہ موجودہ قیادت پارٹی سنبھالے گی یا بشریٰ بی بی، انہوں نے بے اختیار ’پارٹی لیڈرشپ‘ کو استعفیٰ دینے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

شوکت یوسفزئی نے ڈی چوک پر ہونیوالے آپریشن پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پارٹی کی پنجاب کی قیادت کہاں غائب تھی، انہوں نے تسلیم کیا کہ ڈی چوک پر بیٹھنے کے باوجود کوئی پلان نہیں تھا۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عسکری قیادت سے بات چیت کے لیے تیار

شوکت یوسفزئی کا موقف تھا کہ احتجاج پر روانہ ہونے سے قبل مشاورتی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے تھی، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پارٹی قیادت احتجاجی مظاہرین کی قیادت کے لیے سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے پارٹی میں اختلافات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کو کامیاب قرار دیا ہے، ان کے مطابق حکومتی طاقت کا سامنا کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے کارکنان ڈی چوک تک پہنچے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج: شرپسندی میں ملوث طلبہ کی تعلیمی اسناد و داخلے، دیگر افراد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹس منسوخ کرنے پر غور

علی امین نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے براہ راست فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ہونیوالی ہلاکتیں قطعی ناقابل قبول تھیں۔ انہوں نے وفاق اور پنجاب حکومت کے غیر قانونی اور جابرانہ رویے کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، ہم مطالبہ نہیں بلکہ تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے

آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں پر پولنگ 24 اگست کو، امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

نئے انتظامی یونٹس کے بغیر بہتر گورننس ممکن نہیں، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کا اتفاق

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

اسلام ماخا چیف کی ’یو ایف سی‘ فائٹ میں مسلسل 17 ویں فتح، نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کردیا

ایران کا ہرمز کھولنے سے قبل امریکا سے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

کالم / تجزیہ

انکار کا اعزاز

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں