کیا پی ٹی آئی پنجاب میں ایک اور لانگ مارچ کی تیاری کررہی ہے؟

جمعرات 28 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو فائنل احتجاج کی کال دی گئی  جس پر خیبرپختونخوا سے قافلوں کی صورت میں بڑی تعداد میں کارکنان اسلام آباد پہنچے مگر پنجاب سے کوئی بڑا قافلہ اسلام آباد نہیں پہنچ سکا۔

26 نومبر کو پی ٹی آئی کے مظاہرین ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تاہم رات گئے آپریشن آپریشن کے دارالحکومت کے ریڈ زون میں واقع جناح ایونیو کو مظاہرین سے خالی کرالیا گیا، پی ٹی آئی کی قیادت اسلام آباد سے فرار ہوگئی، تاہم بعد میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے مانسہرہ سے دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی فائنل کال پر پنجاب باہر کیوں نہ نکلا؟

پنجاب سے پی ٹی آئی کی قیادت سمیت کارکنوں کے اسلام آباد نہ پہنچنے پر پارٹی رہنماؤں اور پنجاب کی عوام پر بہت تنقید ہو رہی ہے کہ پنجابی اپنے حق اور اپنے رہنما کو رہا کروانے اسلام آباد کے ڈی چوک نہیں پہنچے۔

پی ٹی آئی کے ایک رکن پنجاب اسمبلی نے وی نیوز کو بتایا کہ اگر 24 نومبر سے قبل ہمیں اسلام آباد جانے کا کہا جاتا تو پنجاب کی عوام پہنچ جاتے، بشریٰ بی بی کا یہ حکم تھا کہ پنجاب کے اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنما 24 نومبر کو اپنے اپنے حلقوں سے نکلیں۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کا پنجاب میں 24 نومبر کا احتجاجی پلان تبدیل، نیا منصوبہ کیا ہے؟

’اس سے ایک روز قبل 23 نومبر کو حکومت نے پورے پاکستان کے راستے بند کر دیے جس کی وجہ سے اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنما اسلام آباد نہ پہنچ سکے۔‘

مذکورہ رکن اسمبلی کے مطابق پنجاب کی قیادت پر بہت زیادہ تنقید کے بعد اب ہمیں لانگ مارچ کی تیاری کی ہدایت مل رہی ہیں، اور یہ لانگ مارچ اس دفعہ لاہور سے شروع ہوگا۔

مزید پڑھیں:ساری ہمدردیاں پی ٹی آئی کارکنان کے ساتھ!

’ہر قسم کی تیاری کا کہا گیا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کی کال کسی وقت بھی دی جاسکتی ہے، ڈی چوک پر ہمارے کارکنوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئی ہیں، سب کے سامنے انہیں مارا گیا جس کے باعث اب پارٹی کے اندر بہت غم و غصہ ہے۔‘

ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کی جانب سے پیغام مل رہے ہیں، پنجاب کے اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنما بتائیں گے کہ کس تاریخ اور لاہور کے کس مقام سے لانگ مارچ شروع ہوگا۔

مزید پڑھیں:ڈی چوک احتجاج: علی امین گنڈاپور کی مخالفت، اجلاس میں تلخ جملوں کا تبادلہ

رکن اسمبلی نے بتایا کہ فیصل آباد ضلع میں پارٹی کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، اس طرح پنجاب کے باقی ماندہ اضلاع میں بھی کیا جارہا ہے۔

’ اگلے 10 سے 15 دن بڑے اہم ہیں، جس کے دوران پارٹی قیادت بڑے اہم فیصلوں کو حتمی شکل دے گی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا علی خان کیس: اسلحہ نہ ملنے اور فرانزک تضادات نے تحقیقات کو الجھا دیا

بی بی سی کی رپورٹ حقائق کے منافی، الزامات گمراہ کن پروپیگنڈا ہیں: سیکریٹری اطلاعات آزاد کشمیر

منہدم قرار دیے گئے پل کا استعمال جاری، لوگ یہ خطرہ کیوں مول لے رہے ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی انتخابات کے دو مراحل مکمل، نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش، وزیراعظم کون بنے گا؟

اے آئی پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لیکن منافع کہاں؟ ایپل، ایمیزون اور دیگر ٹیک کمپنیوں کے نئے منصوبے سامنے آگئے

ویڈیو

آزاد کشمیر اسمبلی انتخابات کے دو مراحل مکمل، نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش، وزیراعظم کون بنے گا؟

فلسطینی پرچم لہرانے پر برطانوی بینڈ میسیو اٹیک کیخلاف سنگاپور میں کارروائی

ٹام ہالینڈ کی نئی اسپائیڈر مین فلم نے باکس آفس پر دھوم مچا دی

کالم / تجزیہ

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ