اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی کی جانب سے ڈی چوک میں احتجاج کرنے پر بانی تحریک انصاف عمران خان سمیت 96 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج میں مقدمے میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیں ڈی چوک احتجاج، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مزید 5 مقدمات درج
عدالت نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، شیر افضل مروت کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔
اس کے علاوہ شعیب شاہین، علی بخاری، عامر مغل، ایم این اے عبداللطیف، فاتح الملک، علی ناصر، صوبائی وزیر ریاض خان ودیگر کے وارنٹ جاری کیے گئے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کال پر پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا، اس دوران راستے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انہیں روکا گیا، جس دوران جھڑپیں بھی ہوئیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنان تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے 26 نومبر کو اسلام آباد پہنچے، احتجاج میں جھڑپوں کے دوران 4 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ پی ٹی آئی کے 6 کارکنوں کی بھی اموات ہوئی ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کی جانب سے سینکڑوں اموات کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں ڈی چوک احتجاج: گرفتار سرکاری ملازمین کی رہائی پر بونس، پروموشن اور چھٹیوں کا وعدہ
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چونکہ عمران خان نے جیل میں بیٹھ کر احتجاج کی منصوبہ بندی کی ہے، اس لیے وہ جھڑپوں میں ہونے والی اموات کے ذمہ دار ہیں۔