سندھ بھر میں ایم ڈی کیٹ کا داخلہ ٹیسٹ آج دوبارہ ہو رہا ہے

اتوار 8 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ بھر میں آج میڈیکل اور ڈینٹل کالجز و جامعات کے داخلہ ٹیسٹ کا دوبارہ انعقاد کیا جارہا ہے۔ ایم ڈی کیٹ میں سندھ بھر سے 38 ہزار 609 امیدوار شریک ہیں، امیدواروں کو صبح 8:30 بجے امتحانی مراکز پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

آئی بی اے سکھر کے مطابق پرچہ 200 کثیر انتخابی سوالات پر مشتمل ہو گا، دورانیہ ساڑھے 3 گھنٹے ہے۔ گزشتہ شب وی سی، آئی بی اے سکھر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش میڈیکل ٹیسٹ کا پرچہ جعلی ہے۔ وی سی ڈاکٹر آصف شیخ نے کہا تھا کہ طلبا کو یقین دلاتا ہوں ہمارا پرچہ لیک نہیں ہوگا۔ صاف شفاف طریقے سے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا انعقاد ممکن بنائیں گے۔

مزید پڑھیں: ایم ڈی کیٹ کا پرچہ پونے 14 گھنٹے پہلے آؤٹ ہوا، عدالت کا تفصیلی فیصلہ جاری

یاد رہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2024 کا دوبارہ انعقاد آئی بی اے سکھر کروا رہا ہے، ایم ڈی کیٹ کراچی، حیدرآباد، جامشورو، شہید بینظیر آباد، لاڑکانہ اور سکھر میں بیک وقت ہو رہا ہے۔

کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی اور جامعہ کراچی میں 2 امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں۔ والدین کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کے قریب ہال میں جگہ مختص کی گئی ہے۔ جامعہ کراچی میں مسکن گراؤنڈ میں امتحانی مرکز بنایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خضدار میں فرائض کی انجام دہی کے دوران لیڈی کانسٹیبل شہید، اہلکار کون تھیں؟

اسٹاک مارکیٹ ایک مرتبہ پھر مندی کا شکار، انڈیکس میں 1700 سے زائد پوائنٹس کی کمی

امریکا ایران مذاکرات، اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع مؤخر

پولیو مہم میں کتنے بچوں کو ویکسین نہیں لگ سکی، وجوہات کیا تھیں؟

حالیہ کارکردگی پر ٹیم میں میری جگہ نہیں بنتی، محمد رضوان کا اعتراف

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟