مذاکرات اچھی بات، مگر بانی پی ٹی آئی کی گارنٹی کون دے گا؟ خواجہ آصف کا طنز

جمعرات 12 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر دفاع اور ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مذاکرات چند دن پہلے تک صرف اسٹیبلشمنٹ تک حلال  اور حکومت سے حرام تھے۔ یہ دوغلا پن اور دہرا معیار تحریک انصاف کی شناخت اور کلچرہے۔

خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی جانے والی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ مذاکرات اچھی بات ہے مگر بانی پی ٹی آئی کی گارنٹی کون دے گا؟ وہ تو دن میں کئی رنگ بدلتے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق ایک  زمانہ تھا جب جنرل باجوہ اور فیض ضامن ہوتے تھے۔ یہ تب کی بات ہے جب محبت جوان تھی۔

ثبوت فراہم نہیں کرتے

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت ہلاکتوں کی تعداد بتاتے ہیں لیکن ثبوت فراہم نہیں کرتے۔ رینجرز اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کا اعتراف تو دور، ذکر تک نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے نہ صرف رابطہ شروع کردیے ہیں بلکہ مذاکرات کے حوالے سے حکومت کی عدم دلچسپی کا شکوہ کیا ہے۔ جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مذاکرات کے حوالے سے یکسر تردید کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

اسحاق ڈار کی آسٹریلین ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال

ہنگامی صورتحال میں بھی سپریم کورٹ کی کارروائی جاری، ویڈیو لنک کے ذریعے 20 مقدمات نمٹا دیے گئے

’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال

پنجاب میں ٹریفک جرمانوں میں کمی کا اطلاق تاخیر کا شکار، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟