جی میل کے لیے خطرے کی گھنٹی، ایلون مسک کی ’ایکس میل‘ میدان میں

منگل 17 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایکس، ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی ای میل سروس جی میل کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق، ایلون مسک نے حال ہی میں ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کا ردعمل دیتے ہوئے جی میل کے مقابلے میں اپنی ’ایکس میل‘ سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کی اسٹار لنک پاکستان آ رہی ہے؟

ایکس پر ایک صارف نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ @x.com کا ای میل ایڈریس ہی مجھے جی میل استعمال کرنے سے روک سکتا ہے۔

ایلون مسک نے مذکورہ پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا، ’دلچسپ! میسجنگ بشمول ای میل کس طرح کام کرتے ہیں، ہمیں اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ایلون مسک نے تصدیق کی کہ ایکس میل میں ایک ڈی ایم اسٹائل انٹرفیس ہوگی جو موجودہ میسجنگ پلیٹ فارمز کے مطابق ہوگی۔

ایلون مسک کی جانب سے ’ایکس میل‘ شروع کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوچکی ہے اور لوگ اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم