وزیراعظم نے گزشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ ایسے تمام واقعات جن میں پاکستانی ملوث پائے گئے کی رپورٹ طلب کر لی۔
یہ بھی پڑھیں:یونان کشتی حادثہ کیوں پیش آیا، وجہ سامنے آگئی
وزیر اعظم کی زیرصدارت یونان میں کشتی الٹنے کے حادثے میں پاکستانیوں کی ہلاکت اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے 2023 کے کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کیخلاف کاروائی میں سست روی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ اور معصوم پاکستانیوں کو بیرون ملک جانے کے غیر قانونی طریقوں کا جھانسہ دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت کی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ 2023میں یونان کے اسی علاقے میں ایک دردناک واقع ہوا، جس میں 262 پاکستانی جان سے گئے، ان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ پاکستان کے لیے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنتی ہے، اسے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم کے مطابق سست روی سے لیے گئے اقدامات کی بدولت اس قسم کے واقعات کا دوبارہ رونما ہونا ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یونان کشتی حادثہ: متاثرہ 47 پاکستانی ریسکیو، خصوصی سیل قائم
اس موقع پر وزیراعظم نے IBMS نظام کے فوری نفاذ کی ہدایت کی۔
اجلاس میں انسانی اسمگلنگ اور اس کی روک تھام کے حوالے سے لیے گئے اقدامات پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 174 کیسز کو عدالت میں پیش کیا جا چکا، جن میں سے 4 کو سزا ہوئی۔
اجلاس میں وزیر اعظم نے اس حوالے سے عوامی آگاہی کے لیے چلائی گئی مہم کی تفصیلات طلب کرلیں۔

وزیر اعظم نے FIA اور وزارت خارجہ کو پچھلے ایک سال میں ہونے والے ایسے تمام واقعات جن میں پاکستانی شامل تھے کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔













