کرم میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

جمعرات 19 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے ضلع کرم میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

کرم میں دیرپا امن کے قیام کے لیے صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ہوگا، اعلیٰ سول اور عسکری قیادت، اراکین صوبائی کابینہ، متعلقہ ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے حکام اجلاس میں شریک ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ضلع کرم میں راستے تاحال بند، شہری پریشان، گرینڈ جرگہ بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا

اجلاس میں کرم میں امن و امان کی تازہ صورتحال، قیام امن کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات اور دیگر متعلقہ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس میں ضلع کرم میں لوگوں کو اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور امن کے قیام کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے، فورم میں تمام متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ضلع کرم میں قبائل کے درمیان فائربندی، مورچوں پر فورسز اور پولیس کے دستے تعینات

اجلاس کو علاقے میں امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کے تشکیل کردہ گرینڈ جرگے کی طرف سے اب تک کی پیشرفت سے شرکا کو آگاہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 21نومبر کو ضلع کرم میں پارا چنار سے پشاور جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر اوچت کے مقام پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 40 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ جس کے بعد سے ضلع میں خونی تصادم کا آغاز ہوگیا تھا جس میں فریقین کے درجنوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

 گرینڈ امن جرگہ میں ڈیڈلاک برقرار

دوسری جانب کرم میں امن و امان کی صورتحال پر کوہاٹ میں ہونے والے گرینڈ امن جرگہ میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔

جرگہ میں مسلسل ڈیڈ لاک اور کسی متفقہ فیصلہ نہ ہوپانے کے باعث پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت آمدروفت کے تمام راستے 72 روز سے بند ہیں۔

مشیر اطلاعات کے پی بیرسٹر سیف نے کہا کرم میں بھاری اسلحہ سرینڈر کرنے پر کچھ لوگوں کے تحفظات ہیں، جب تک اسلحہ سرینڈر نہیں ہوگا، سڑک نہیں کھولی جائے گی، گرینڈ جرگے کو دو دن کا وقت دیا ہے۔

بیرسٹر سیف کا بیان انتہائی مضحکہ خیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار

ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کے بیان پر مجلس وحدت المسلمین نے کہا ہے کہ ضلع کرم سے متعلق ترجمان خیبرپختونخواہ حکومت بیرسٹر سیف کا بیان انتہائی مضحکہ خیز اور غیر ذمہ دارانہ ہے،یکم اکتوبر سے لے کر آج تک پاراچنار کے تمام راستے بند ہیں ، جس وجہ سے ادویات کی قلت پیدا ہوئی،یکم اکتوبر سے 18 دسمبر تک 31 معصوم بچے پاراچنار میں ادویات کی کمی کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔

 ترجمان ایم ڈبلیو ایم کا کہنا ہے کہ بیرسٹر سیف معصوم بچوں کی شہادت پر اپنی مجرمانہ غفلت، بے حسی اور بے رحمی چھپانے کے لیے غلط بیانی کررہے ہیں،پاراچنار اور کرم ایجنسی کے حالات کی ذمہ دار وفاقی و صوبائی حکومتیں اور متعلقہ سیکیورٹی ادارے ہیں،صوبائی حکومت معصوم بچوں اور پاراچنار کے شہریوں کی شہادت پر تماشہ دیکھ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف انسانیت سے عاری اور بے شرم ثابت ہوئے ہیں،آپ ایک گھنٹے میں راستہ کھولنے کا دعویٰ کررہے یعنی70 روز سے آپ نے ہی رستے دہشتگروں کے حوالے کررکھے ہیں، صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان کو بحال کرے اور عوام کے لیے راستوں کو محفوظ بنائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟