ایم ڈی کیٹ امتحانات مکمل شفافیت کے ساتھ منعقد کیے جائیں، قائمہ کمیٹی کی سفارش

منگل 24 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ایم ڈی کیٹ کے امتحانات شفافیت کے ساتھ منعقد کرنے کی سفارش کی ہے۔

منگل کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمیں مہیش کمار ملانی زیرصدارت ہوا، ۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین، وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی، اجلاس میں ایم ڈی کیٹ (MDCAT) ٹیسٹ اور پاکستان نرسنگ کونسل ترمیمی بل سمیت اہم ایجنڈا آئٹمز زیر غور آئے۔

یہ بھی پڑھیں: 24 نومبر احتجاج: اسلام آباد میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ ملتوی، نئی تاریخ کیا ہوگی؟

ترجمان قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے مطابق اجلاس میں کمیٹی چیئرمین نے ہدایت کی کہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے طلبا کے لیے 30 دسمبر کو ہونے والے ایم ڈی کیٹ امتحانات مکمل شفافیت کے ساتھ منعقد کیے جائیں، کمیٹی نے آگاہ کیا کہ یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے کہ امتحان کی فیس طلبا سے وصول کی جائے یا پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) امتحان کے اخراجات خود برداشت کرے۔

امتحانات کے لیے مناسب وقت کی فراہمی

کمیٹی نے سفارش کی کہ طلبا کو ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لیے مناسب وقت فراہم کیا جائے اور یہ امتحان ایف ایس سی کے نتائج کے بعد منعقد کیا جائے تاکہ طلبا اپنی تیاری بہتر طریقے سے کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں شفافیت برقرار رکھنا مشکل ہے، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو

داخلہ امتحان کے لیے اہلیت کے معیار کا جائزہ

کمیٹی نے ایم ڈی کیٹ میں شرکت کے لیے اہلیت کے معیار کا ازسرنو جائزہ لینے کی سفارش کی تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبا کو موقع فراہم کیا جا سکے۔

صوبائی حکومتوں کو خط ارسال کرنا

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومتوں کو ایک خط ارسال کیا جائے گا جس میں نشستوں کی تقسیم اور ان کے میرٹ کے مطابق جائزہ لینے کے حوالے سے سفارشات شامل ہوں گی۔

اجلاس کے دوران تمام شرکا نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں مزید بہتری لانے اور طلبا کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا، کمیٹی نے زور دیا کہ تمام فیصلے طلبا اور عوام کے بہترین مفاد میں کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

1980 فوٹو اے آئی ٹرینڈز: تصویریں بنانے کا شوق کہیں آپ کا فون اور ذاتی ڈیٹا ہیکرز کے حوالے تو نہیں کررہا؟

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

اپوزیشن کو گنجائش دی جائے تو 27 ستمبر کو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے، فواد چوہدری کا حکومت کو مشورہ

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج، اسلام آباد میں سیکیورٹی پلان تیار، کنٹینرز پہنچنا شروع

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟

ویڈیو

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘